Urdu book · اللہ اکبر

محسوس پرستی

Urdu book, p. 243

By Maulana Wahiduddin Khan

غیر مومن دکھائی دینے والی چیزوں میں جیتا ہے اور مومن نہ دکھائی دینے والی چیزوں میں۔ غیر مومن کی یافت عضویاتی یافت ہوتی ہے اور مومن کی یافت ذہنی یافت۔ غیر مومن کی پہنچ صرف ان چیزوں تک ہوتی ہے جن کو دیکھ کر جانا جاتا ہے اور مومن کی پہنچ ان چیزوں تک ہوجاتی ہے جن کو صرف سوچ کر جانا جاسکتا ہے۔ تاریخ کے ہر دور میں یہی انسان کی سب سے بڑی گمراہی رہی ہے۔ پیغمبر لوگوں کو خدا کی طرف بلاتے تھے مگر خدا چونکہ دکھائی نہیں دیتا اس لیے بہت کم لوگ ایسے نکلے جو خدا کی طرف متوجہ ہوسکیں۔ بیشتر لوگوں نے انہیں محسوس چیزوں کو اپنا مرکز توجہ بنا لیا جن کو وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے تھے۔ روشن ستاروں کی پرستش سے لے کر دریاؤں اور پہاڑوں کی پرستش تک ہر جگہ یہی ذہنیت کارفرما رہی ہے۔ پیغمبروں کی دعوت کو نہ ماننے کی سب سے بڑی وجہ ہر دور میں یہ تھی کہ ان کے مخالفین صرف محسوس خداؤں سے آشنا تھے، اس لیے پیغمبروں کی زبان سے غیر محسوس خدا کی پکار کو سن کر وہ متاثر نہ ہوسکے۔ بزرگوں اور ممتاز شخصیتوں کی پرستش کی نفسیات بھی یہی ہے۔ خدا چونکہ آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتا اس لیے لوگ خدا کی عظمت کو پکڑ نہیں پاتے۔ بزرگ اور ممتاز شخصیتیں دکھائی دیتی ہیں اس لیے لوگ ان کی عظمت کو پکڑ لیتے ہیں اور ان کی پرستش کرنے لگتے ہیں۔ بزرگ پرستی نام ہے محسوس پرستی کا، اگر چہ بہت کم لوگ ہیں جو اس حقیقت کو جانتے ہوں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page