محبت کا نذرانہ
Urdu book, p. 244
By Maulana Wahiduddin Khan
محبت کا نذرانہ آدمی اپنی فطرت اور اپنے حالات کے لحاظ سے ایک ایسی مخلوق ہے جو ہمیشہ خارجی سہارا چاہتا ہے۔ ایک ایسی ہستی جو اس کی کمیوں کی تلافی کرے۔ اور جو اس کے لیے اعتماد یقین کی بنیاد ہو۔ کسی کو اس حیثیت سے زندگی میں شامل کرنا اس کو اپنا معبود بنانا ہے۔ جب آدمی کسی ہستی کو اپنا معبود بناتا ہے تو اس کے بعد لازمی طور پر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کی محبت اور عقیدت کے جذبات اس کے لیے خاص ہو جاتے ہیں۔ آدمی عین اپنی فطرت کے لحاظ سے مجبور ہے کہ وہ کسی سے حب شدید کرے اور جس سے کوئی شخص حب شدید کرے وہی اس کا معبود ہے۔ موجودہ دنیا میں چوں کہ خدا نظر نہیں آتا اس لیے ظاہر پرست انسان عام طور پر نظر آنے والی ہستیوں میں سے کسی ہستی کو وہ مقام دے دیتا ہے جو در اصل خدا کو دینا چاہیے ۔ یہ ہستیاں اکثر وہ سردار یا پیشوا ہوتے ہیں جن کو آدمی ”بڑا“ سمجھ لیتا ہے ۔ اور پھر وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی تو جہات کا مرکز بن جاتے ہیں۔ لوگ ان کے اس طرح گرویدہ ہو جاتے ہیں جیسا گرویدہ انہیں صرف خدا کا ہونا چاہیے۔ آدمی کی فطرت کا خلا جو حقیقتاً اس لیے تھا کہ اس کو خدا سے پر کیا جائے وہاں وہ کسی غیر خدا کو بٹھا لیتا ہے (البقرہ ، 165)۔ مذہبی احساس جب اپنے اعلیٰ ترین اسٹیج کو پہنچتا ہے تو وہ محبت میں ڈھل جاتا ہے۔ خدا ہر قسم کی خوبیوں کا اعلیٰ ترین مجموعہ ہے۔ انسان جتنی بھی چیزوں کا مالک ہے وہ سب کی سب خدا کا عطیہ ہیں۔ کائنات کا گہرا مشاہدہ ایک ایسے خالق کا تعارف کراتا ہے ، جو حیرت ناک حد تک حسن و کمال کی خصوصیات رکھنے والا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader