اللہ اکبر
Urdu book, p. 245
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ ہے خدا اور کوئی آدمی جب ایسے خدا کو پالِیتا ہے تو وہ بالکل فطری طور پر اس کی عقیدت ومحبت میں سرشار ہو جاتا ہے۔ انسان کے پاس کسی کو دینے کے لیے جو سب سے بڑی چیز ہے وہ محبت ہے۔ ایسی حالت میں یہ ممکن نہیں کہ کوئی شخص خدا جیسی باکمال ہستی کو پائے اور اس کی خدمت میں محبت سے کم تر درجہ کی کوئی چیز پیش کرے۔ محبت سے کم کوئی چیز نہ تو خدا قبول کرتا اور نہ کسی انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ خدا کے حضور میں محبت سے کم کسی چیز کا نذرانہ پیش کرے۔ خدا کی نصرت محمد ابن اسحاق نے اپنی سیرت میں مکی دور کا یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ قریش نے نضر بن حارث اور عقبہ بن ابی محیط کو مدینہ بھیجا۔ وہاں وہ یہود کے علما سے ملے اور ان سے پوچھا کہ ہم کو محمد کے بارے میں بتاؤ کہ ہم ان کو کیا سمجھیں۔ علما یہود نے کہا کہ ان سے تم اصحاب کہف اور ذوالقرنین کا حال پوچھو۔ اگر وہ بتا دیں تو وہ نبی مرسل ہیں اور اگر نہ بتا سکیں تو وہ منقول ہیں۔ یہ لوگ مکہ واپس آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ ان چیزوں کے بارے میں ہمیں بتائیں۔ آپ نے فرمایا کہ تم نے جو سوال کیا ہے اس کا جواب میں تم کو کل دوں گا: اُخْبِرُكُمْ غَدًا بِمَا سَأَلْتُمْ عَنْہُ۔ آپ نے یہ جملہ کہا مگر ان شاء اللہ نہ فرمایا۔ آپ کو خیال تھا کہ کل کے دن جبریل آئیں گے تو میں ان سے پوچھ کر بتا دوں گا۔ مگر انشاء اللہ نہ کہنے کی وجہ سے اگلے دن وحی نہ آئی۔ یہاں تک کہ پندرہ دن تک وحی رکی رہی۔ وحی نہ آنے کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگلے دن جواب نہ دے سکے۔ یہ مکہ کے مشرکین کے لیے سنہر اموقع تھا۔ انھوں نے لوگوں سے کہنا شروع کیا کہ محمد نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader