Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 246

By Maulana Wahiduddin Khan

وعدہ کیا تھا مگر وہ اپنے وعدہ کو پورا نہ کر سکے۔ دن پر دن گزرتے رہے اور آپ کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا۔ مکہ کے مشرکین نے اس کو خوب استعمال کیا۔ انھوں نے لوگوں سے کہا کہ اب ثابت ہو گیا کہ یہ پیغمبر نہیں ہیں۔ اگر وہ پیغمبر ہوتے تو ضرور اپنے وعدہ کے مطابق جواب دیتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رات دن سخت بے چینی میں گزر رہے تھے۔ ایک ایک لمحہ پہاڑ ہو رہا تھا۔ بظاہر یہ سراسر آپ کے خلاف بات تھی مگر اللہ تعالیٰ نے اس کو زبردست طور پر آپ کے موافق بنا دیا۔ وہ یہ کہ پندرہ دن وحی رکنے کی وجہ سے قریش نے سارے شہر میں اتنا پروپیگنڈا کیا کہ ایک ایک آدمی اس معاملہ سے باخبر ہو گیا۔ ہر آدمی کو اشتیاق ہو گیا کہ وہ جانے کہ اس کی بابت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیا کہتے ہیں۔ گویا مکہ والوں نے بہت بڑے پیمانے پر سننے کی فضا بنا دی۔ چنانچہ پندرہ دن کے بعد جب سورہ کہف اتری اور اس میں اصحاب کہف اور ذوالقرنین کا قصہ تفصیل سے بیان ہوا تو سارے لوگ اس کو سننے کے لیے دوڑ پڑے۔ سورہ کہف کے اترتے ہی وہ سارے شہر میں ایک ایک آدمی کی زبان پر تھی۔ جو تبلیغ مہینوں میں ہوتی وہ صرف ایک دن میں ہو گئی ۔ اگر اللہ چاہے تو وہ اپنے کسی بندے کی غلطی کو بھی صحت کے خانہ میں ڈال دے۔ وہ اس کے ناموافق حالات کو موافق حالات میں تبدیل کر دے ( البدایہ والنہایہ، جلد 3، صفحہ 69 )۔ دل کا سکون آج کی دنیا ترقی یافتہ دنیا کہی جاتی ہے۔ مگر یہ تمام ترقیاں صرف ”چیزوں“ کی ہوئی ہیں۔ جہاں تک ”انسان“ کا تعلق ہے ، وہ بدستو غیر ترقی یافتہ حالت میں پڑا ہوا ہے۔ انسان پیچھے ہے اور چیزیں آگے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page