Urdu book · اللہ اکبر

دل کا سکون

Urdu book, p. 247

By Maulana Wahiduddin Khan

سب سے بڑی چیز جو انسان چاہتا ہے وہ سکون ہے۔ مگر آج کسی کو سکون حاصل نہیں۔ جدید مادی ترقیوں نے صرف یہ کیا ہے کہ انسان سے اس کا سکون چھین لیا ہے۔ یہ ترقیاں انسان کو سکون دینے میں سراسر ناکام ثابت ہوتی ہیں۔ موجودہ دنیا میں ایک عجیب تضاد نظر آتا ہے۔ یہاں سامان سکون ہے مگر سکون نہیں یہاں قہقہوں کا شور ہے مگر دل کا چین نہیں۔ یہاں خوشی کے اسباب کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں مگر حقیقی خوشی کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ اس کی وجہ کیا ہے۔ اس کی وجہ بالکل سادہ ہے۔ ہم روح جیسی برتر چیز کو مادہ جیسی کمتر چیز کے ذریعہ خوش کرنا چاہتے ہیں۔ اور ایسا ہونا کبھی اس دنیا میں ممکن نہیں۔ جو لین آف ناروچ (1342-1416) نے صحیح کہا ہے کہ ہماری روح کبھی ان چیزوں میں سکون نہیں پا سکتی جو خود اس سے نیچی ہوں: Our soul may never rest in things that are beneath itself. انسان اشرف المخلوقات ہے۔ وہ ہماری معلوم دنیا کی سب سے برتر مخلوق ہے۔ اس کائنات میں انسان کے اوپر صرف ایک ہی ذات ہے اور وہ خود خالق ہے۔ یہی واقعہ یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ انسان کے لیے سکون اور راحت کا واحد ذریعہ صرف یہ ہے کہ وہ اپنے خالق کو پالے۔ اس سے کمتر کوئی چیز اس کے سکون اور راحت کا سبب نہیں بن سکتی۔ یہی حقیقت ہے جو قرآن میں ان لفظوں میں بیان کی گئی ہے: اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوْبُهُمْ بِذِكْرِ اللَّهِ اَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ (13:28)۔ جو لوگ ایمان لائے اور ان کے دلوں کو اللہ کی یاد سے اطمینان ملتا ہے۔ جان لو، اللہ کی یاد ہی سے دلوں کو اطمینان ہوتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page