شکر کی اہمیت
Urdu book, p. 248
By Maulana Wahiduddin Khan
شکر کی اہمیت چارلس رکٹر (1900-1985) ایک امریکی سائنس داں ہیں۔ وہ زلزلہ کے ماہرین میں سمجھے جاتے ہیں۔ انھوں نے ایک مخصوص پیمانہ دریافت کیا ہے جو آج دنیا بھر میں زلزلہ کی پیدا کردہ طاقت کو ناپنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کو رکٹر پیمانہ ( Richter Scale ) کہتے ہیں۔ چارلس رکٹر نے کیلی فورنیا کے انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی میں نصف صدی تک زلزلہ کا مطالعہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا: ان سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ زلزلہ کے خطرہ سے بچنے کے لیے آدمی کو کہاں بھاگنا چاہیے۔ کیلی فورنیا میں اس کا جواب بالکل سادہ ہے، وہ یہ کہ کہیں نہیں۔ امریکا کی 48 ریاستوں میں زلزلہ کا سب سے کم خطرہ فلوریڈا اور ساحلی ٹیکساس میں ہے۔ مگر پھر میں سوال کروں گا کہ طوفان کے بارے میں ان کا کیا خیال ہے۔ حقیقت یہ کہ ہر علاقہ کے اپنے کچھ خطرات ہیں۔ اس لیے واحد بدل یہ ہے کہ آدمی کسی دوسرے مقام پر چلا جائے اور کسی دوسرے خطرہ کو گوارا کرے (ہندوستان ٹائمز، _1980 17 اکتوبر) آدمی کا یہ مزاج ہے کہ جو کچھ اس کو ملا ہوا ہے اس پر وہ مطمئن نہیں ہوتا اور جو کچھ نہیں ملا ہے اس کے پیچھے دوڑتا ہے۔ اسی مزاج کا یہ نتیجہ ہے کہ ہر آدمی غیر مطمئن زندگی گزارتا ہے۔ کوئی بظاہر خوش نصیب آدمی جس کو لوگ قابل رشک سمجھتے ہیں وہ بھی اندر سے اتنا ہی غیر مطمئن ہوتا ہے جتنا وہ لوگ جو اس کو رشک کی نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ ہر شخص کو کوئی نہ کوئی نعمت ملی ہوئی ہے۔ مگر جس کے اندر شکر کی نفسیات نہیں ہوتی وہ غیر حاصل شدہ نعمت کی طرف متوجہ رہتا ہے اور جو نعمت بروقت اسے حاصل ہے اس کو حقیر سمجھتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader