اللہ اکبر
Urdu book, p. 249
By Maulana Wahiduddin Khan
ایسے آدمی کے اندر اپنے خدا کے لیے شکر کا جذبہ نہیں ابھرتا۔ وہ عین اسی چیز سے محروم رہ جاتا ہے جس کو اسے سب سے زیادہ اپنے سینہ کے اندر پرورش کرنا چاہیے۔ موجودہ دنیا کو خدا نے اس طرح بنایا ہے کہ یہاں مکمل راحت کسی کے لیے نہیں۔ ایک جغرافیہ کا آدمی وہاں کے مسائل سے گھبرا کر دوسرے جغرافیہ میں چلا جائے تو اس کو دوسرے جغرافیہ میں پہنچ کر معلوم ہوگا کہ یہاں بھی مسائل ہیں۔ اسی طرح اگر کم آمدنی والے کے مسائل ہیں تو زیادہ آمدنی والے کے بھی مسائل ہیں۔ اگر بے زور آدمی کے مسائل ہیں تو ان کے بھی مسائل ہیں جن کو زور و قوت حاصل ہے۔ امتحان کی اس دنیا میں کسی آدمی کو مسائل سے فرصت نہیں۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ جن مسائل کے درمیان ہے ان کو گوارا کرتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھے۔ اس کی تو جہات کا مرکز خدا کی رضا حاصل کرنا ہو نہ کہ مسائل سے پاک زندگی کا مالک بننا، کیونکہ وہ تو آخرت سے پہلے ممکن ہی نہیں۔ خدا کی یاد اخبار ہندوستان ٹائمس کے ایڈیٹر نے ایک فیلڈ اسٹڈی (15 مئی 1982) کے ذریعہ ہندوستانی لوگوں کا مزاج معلوم کیا۔ وہ اپنے مطالعہ کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ ہندوستانیوں کا حال یہ ہے کہ جب کوئی مصیبت پڑتی ہے تو خدا ان کے یہاں سب سے اوپر ہوتا ہے۔ جب ہر چیز ٹھیک ہو تو پیسہ سب سے اوپر آجاتا ہے اور خدا کو دوسرے درجہ میں پہنچادیتا ہے: When a catastrophe strike, God is tops. When all is tranquil, money manages to push God down to the second place. یہ بات نہ صرف ہندوستانیوں کے لیے صحیح ہے بلکہ وہ عام انسانوں کے لیے بھی بڑی حد تک درست ہے۔ انسان کا حال یہ ہے کہ تکلیف اور بے بسی کے لمحات میں وہ سب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader