توہم پرستی
Urdu book, p. 25
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ نعل ہر وقت صدر ریگن کے ساتھ رہتی ہے۔ جون 1981ء کی ایک ملاقات میں مسٹر سیلر نے ان سے پوچھا: کیا آپ اب بھی اس نعل کو اپنی جیب میں رکھتے ہیں۔ صدر ریگن نے کہا ہاں ضرور : I sure do اس کے بعد انھوں نے اپنی بائیں جیب میں ہاتھ ڈالا اور مذکورہ نعل نکال کر دکھائی (ٹائمز آف انڈیا، 24 جون 1981)۔ یہ بلا شبہ توہم پرستی (Superstition) ہے۔ مگر اس توہم پرستی کا ایک معلوم سبب ہے۔ وہ یہ کہ موجودہ دنیا میں انسان کے ساتھ جو واقعات پیش آتے ہیں وہ ایسے پر اسرار ہوتے ہیں کہ آدمی پوری طرح ان کی توجیہہ نہیں کر پاتات۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کچھ چھپے ہوئے عوامل ہیں جو کسی کو کامیاب اور کسی کو نا کام کر دیتے ہیں۔ کوئی شخص ایک نتیجہ سے دوچار ہوتا ہے اور کوئی شخص دوسرے نتیجہ سے۔ اور دونوں میں سے کوئی بھی حقیقی معنوں میں نہیں بتا سکتا کہ اس کے ساتھ جو ہوا وہ کیوں ہوا۔ ایک بار میں نے ایک بڑے تاجر سے پوچھا کہ تجارت میں کامیابی کا راز کیا ہے۔ وہ کچھ دیر سوچتا رہا۔ آخر میں کہا کہ ”قسمت“ اگر کوئی شخص اس کا تین سبب بتائے تو میں کہوں گا کہ۔ قسمت، قسمت، قسمت۔ یہ پراسراریت اس لیے ہے کہ سب کچھ کرنے والا خدا ہے۔ مگر انسان چوں کہ غیبی خدا کو دیکھ نہیں پاتا اس لیے وہ کسی نہ کسی دکھائی دینے والی چیز کو اپنا خدا بنا لیتا ہے۔ خواہ وہ سونے کی ایک نعل ہو یا پتھر کی ایک انگوٹھی۔ انسان مجبور ہے کہ وہ کسی کو اپنا معبود بنائے۔ خدا کو یا خدا کو چھوڑ کر کسی اور کو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader