اللہ اکبر
Urdu book, p. 250
By Maulana Wahiduddin Khan
سے زیادہ خدا کو یاد کرتا ہے۔ اس وقت اس کی ساری توجہ خدا کی طرف لگ جاتی ہے۔ مگر جب حالات اچھے ہوں اور کوئی پریشانی سامنے نہ ہو تو وہ اپنے مادی مفادات کو اپنی تمام توجہ کا مرکز بنا لیتا ہے۔ مگر اس قسم کی خدا پرستی خدا پرستی نہیں۔ وہ صرف آدمی کے اس جرم کو بتاتی ہے کہ وہ اپنے رب کو بھولا ہوا تھا۔ وہ وقت جب کہ اسے خدا کو یاد کرنا چاہیے تھا اس وقت اس نے خدا کو یاد نہیں کیا۔ یہاں تک کہ خدا نے اس کی حقیقت اس پر کھول دی۔ اس کی آنکھ سے غفلت کا پردہ ہٹ گیا۔ جب ایسا ہوا تو وہ گھبرا کر خدا کو پکارنے لگا۔ انسان ایک آزاد اور با اختیار مخلوق ہے۔ اس سے آزادانہ خدا پرستی مطلوب ہے نہ کہ مجبورانہ۔ انسان کا یاد کرنا وہ یاد کرنا ہے جب کہ اس نے راحت کے لمحات میں خدا کو یاد کیا ہو۔ راحت کے وقت خدا کو بھلائے رکھنا اور جب مصیبت آئے تو خدا کی طرف دوڑنا ایک ایسا عمل ہے جس کی خدا کے یہاں کوئی قیمت نہیں۔ پھر یہ واقعہ بتاتا ہے کہ جو لوگ دولت کو سب سے بڑا درجہ دئے ہوئے ہیں وہ جھوٹے معبود کو اپنا معبود بنائے ہوئے ہیں۔ جو چیز مصیبت کے وقت آدمی کا سہارا نہ بنے، جس کو آدمی خود نازک لمحات میں بھول جائے وہ کسی کا معبود کس طرح ہو سکتی ہے۔
مومن کا ذہن ایک روز کا واقعہ ہے۔ میں انگریزی اخبار پڑھ رہا تھا۔ اچانک مجھ پر ایک عجیب تجربہ گزرا۔ مجھ کو محسوس ہوا کہ کاغذ پر چھپے ہوئے انگریزی زبان کے الفاظ کو میں اردو زبان میں سمجھ رہا ہوں۔ میری آنکھ اگر چہ ان کو انگریزی زبان میں پڑھ رہی ہے مگر میرا ذہن ان کو اردو زبان میں لے رہا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader