Urdu book · اللہ اکبر

مومن کا ذہن

Urdu book, p. 251

By Maulana Wahiduddin Khan

یہی ہر شخص کا معاملہ ہے، خواہ وہ اردو کا آدمی ہو یا کسی دوسری زبان کا۔ آدمی کسی بات کو ہمیشہ اپنی مادری زبان میں سمجھتا ہے۔ کان یا آنکھ کے راستہ سے بظاہر آدمی کے اندر ٹیبل کا لفظ داخل ہوتا ہے۔ مگر اردو کا ایک آدمی ٹیبل کو صرف اس وقت سمجھ پاتا ہے جب کہ اس کا ذہن اس کو میز میں تبدیل کرلے۔ اسی طرح انگریزی کا ایک آدمی جب میز کا لفظ سنتا ہے تو وہ اس کو صرف اس وقت سمجھتا ہے جب کہ اس کا ذہن اس کو ٹیبل کی صورت میں ڈھال لے۔ انسانی ذہن کے اندر ایک اجنبی زبان کا لفظ داخل ہوتا ہے۔ اس کے بعد ایک حیرت ناک واقعہ ہوتا ہے۔ ذہن اس کو ایک انتہائی پیچیدہ نظام سے گزار کر پراسرار طور پر اس کو اپنی مادری زبان میں تبدیل کرلیتا ہے۔ یہ واقعہ تمثیل کے انداز میں بتاتا ہے کہ مومن کا معاملہ اس دنیا میں کیا ہے۔ مومن اس دنیا میں اس طرح رہتا ہے کہ ہر چیز جو اس کے اندر داخل ہوتی ہے وہ فی الفور خدائی حقیقت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ باہر جو چیز ایک مادی واقعہ ہے وہ مومن کے ذہنی سانچہ میں آکر روحانی واقعہ بن جاتی ہے۔ ایک معاملہ جو باہر بظاہر انسانی معاملہ تھا وہ مومن کے ذہن میں داخل ہوتے ہی خدائی معاملہ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ ایک دنیوی چیز مومن کے ذہن میں پہنچ کر اخروی چیز کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ مومن کا ذہن ایک انتہائی پیچیدہ کارخانہ ہے جو ہر واقعہ کو ربانی واقعہ میں تبدیل کردیتا ہے۔ اس خدائی کارخانہ میں ہر وقت ایک عظیم عمل جاری رہتا ہے۔ اس کے اندر ” خام مال“ داخل ہوتا ہے اور وہ ” تیار مال“ بن کر باہر آتا ہے۔ ایک بظاہر بے معنی چیز اس سے گزر کر ایک انتہائی بامعنی چیز کی صورت میں ڈھل جاتی ہے۔ وہ شخص مومن ہے جس کا وجود اس قسم کا ایک ربانی کارخانہ بن جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page