نمائشی حق پرستی
Urdu book, p. 259
By Maulana Wahiduddin Khan
نمائشی حق پرستی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ پتھر کے اوپر کچھ مٹی جم جاتی ہے۔ اس مٹی کے اوپر سبزہ اگ آتا ہے۔ بظاہر دیکھنے میں ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے وہ کوئی کھیت ہو۔ لیکن اگر زور کی بارش ہو جائے تو مٹی سمیت سارا سبزہ بہہ جاتا ہے اور اس کے بعد صرف پتھر کی صاف چٹان باقی رہ جاتی ہے جو ہر قسم کی ہریالی اور نباتات سے بالکل خالی ہوتی ہے۔ یہی معاملہ اکثر انسانوں کا ہے۔ وہ دیکھنے میں بظاہر بالکل ٹھیک معلوم ہوتے ہیں۔ ظاہری طور طریق میں بہت شاداب “ نظر آتے ہیں۔ مگر حالات کا ایک جھٹکا ان کی ساری شادابی اور ہریالی کو ختم کر دیتا ہے۔ اس کے بعد ان کی شخصیت ایک سوکھے پتھر کی مانند ہو کر رہ جاتی ہے۔ ایک شخص جو بات چیت میں شرافت اور معقولیت کی تصویر بنا ہوا تھا وہ عملی تجربہ کے وقت اچانک ایک نامعقول انسان بن جاتا ہے۔ ایک شخص جو انصاف اور انسانیت کے موضوع پر تقریر کر رہا تھا وہ عمل کے موقع پر بے انصافی کا طریقہ اختیار کر لیتا ہے۔ ایک شخص جو مسجد کے رکوع اور سجدہ میں تواضع کا مظاہرہ کر رہا تھا وہ مسجد کے باہر انسانوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں گھمنڈ اور خود پسندی کا مجسمہ بن جاتا ہے۔ ایک شخص جو دوسروں کو عالی ظرفی اور حقوق رسی کی تلقین کر رہا ہے جب اس کا اپنا وقت آتا ہے تو وہ بغض ، حسد اور ظلم کے راستہ پر چلنے لگتا ہے۔ یہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں ہر آدمی کی آزمائش ہو رہی ہے۔ یہ آزمائش معمول کے حالات میں نہیں ہوتی بلکہ غیر معمولی حالات میں ہوتی ہے۔ مگر عجیب بات ہے کہ آدمی عین اس وقت نا کام ہو جاتا ہے جب کہ اس کو سب سے زیادہ کامیابی کا ثبوت دینا چاہیے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader