مشینی تعبیر
Urdu book, p. 26
By Maulana Wahiduddin Khan
مشینی تعبیر جولائی 1983 میں امریکی بحریہ نے فوجی مشقیں کی تھیں۔ یہ فوجی مشقیں سان فرانسسکو (San Francisco) کے ساحل پر ہوئیں ۔ یہ پورا عمل کمپیوٹروں کے ذریعہ ہورہا تھا۔ اس دوران میں بحریہ کے توپ خانہ کو فائر کرنا تھا۔ فائرنگ کے دوران کمپیوٹر میں کچھ خرابی پیدا ہوگئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کمپیوٹر عقب کی جانب گولے برسانے لگا۔ یعنی جس طرف فائرنگ مطلوب تھی اس کے بالکل الٹی طرف۔ ابتدائی پروگرام کے مطابق اس مشقی گولہ باری میں امریکی بحریہ کے توپ خانہ کے گولے دور سمندر میں جا کر گرتے مگر توپوں کا رخ الٹا ہو جانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے گولے میکسیکو کے ایک مال بردار جہاز کے پاس جا کر گرنے لگے۔ کمپیوٹر میں اس طرح کے لطیفے بار بار پیش آتے ہیں جن کی اطلاع اخبارات ورسائل میں آتی رہتی ہے۔ کمپیوٹر کے عمل میں ایسی غلطیاں کیوں ہوتی ہیں۔ اس کی وجہ صرف ایک ہے۔ کمپیوٹر صرف ایک مادی مشین ہے۔ اس کے پاس عقل نہیں ہے۔ اس سے قیاس کیا جا سکتا ہے کہ کائنات اگر ایک مادی مشین ہوتی جیسا کہ جدید ملحدین کا دعویٰ ہے۔ تو وہ کبھی اس طرح انتہائی درست طور پر نہ چل سکتی جیسا کہ وہ چل رہی ہے۔ ایسی حالت میں زمین اور اس کی آباد یاں اسی طرح برباد ہوچکی ہوتیں جس طرح زلزلہ کے بعد زلزلہ کا مقام برباد ہوجاتا ہے۔ کائناتی حادثات کے نتیجہ میں کائنات بھی تباہ ہوچکی ہوتی اور وہ انسان بھی جو کائنات کی مادی تعبیر کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ " کائنات کا کوئی خدا نہیں ، وہ صرف ایک مادی مشین ہے " یہ جملہ گرامر کے لحاظ سے بظاہر درست ہے مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ درست نہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کے اندر داخلی تضاد پایا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader