اللہ اکبر
Urdu book, p. 260
By Maulana Wahiduddin Khan
لوگ باتوں میں حق پرستی کا ثبوت دے رہے ہیں حالانکہ حق پرستی وہ ہے جس کا ثبوت عمل سے دیا جائے ۔ لوگ دوستی کے وقت خوش اخلاق بنے رہتے ہیں حالانکہ خوش اخلاق وہ ہے جو بگاڑ کے وقت خوش اخلاق ثابت ہو۔ لوگ خدا کے سامنے تواضع کی رسم ادا کر کے مطمئن ہیں حالانکہ کسی کا متواضع ہونا یہ ہے کہ وہ بندوں کے ساتھ معاملہ کرنے میں تواضع پر قائم رہے۔ چٹان کی مٹی پر کی جانے والی کھیتی نمائشی ہے۔ ایسی کھیتی کسی کسان کے کچھ کام آنے والی نہیں۔ سیلاب کا ایک ہی ریلا اس کو جھوٹی کھیتی ثابت کر دیتا ہے۔ اسی طرح نمائشی حق پرستی بھی جھوٹی حق پرستی ہے جس کو قیامت کا سیلاب اس طرح باطل ثابت کر دے گا کہ وہاں اس کے لیے کچھ نہ ہوگا جو اس کا سہارا بنے۔ زندہ قبرستان میں اسپتال کے اندر کھڑا تھا۔ میرے سامنے طرح طرح کے مریض تھے۔ ہر مریض درد والم کی تصویر بنا ہوا تھا کسی کے ہاتھ میں تکلیف تھی اور کسی کے پاؤں میں۔ کسی کے پیٹ میں درد ہو رہا تھا، کسی کی پیٹھ حادثہ کا شکار ہو گئی تھی۔ اسپتال کی دنیا کا ہر آدمی مصیبت زدہ تھا۔ یہاں کا ہر باشندہ انسانی عجز کا نمونہ پیش کر رہا تھا۔ میں نے سوچا ” جسم کی کوئی ایک بات بگڑ جاتی ہے تو آدمی کا یہ حال ہو جاتا ہے۔ پھر اس وقت آدمی کا کیا حال ہو گا جب کہ اس کی ساری بات بگڑ جائے گی۔ جب انسان سے اس کی ہر وہ چیز چھن جائے گی جس کو وہ اپنی چیز سمجھ کر سرکشی کر رہا تھا۔“ پہلے زمانہ میں آدمی عبرت کے لیے قبرستان جاتا تھا۔ اب اس کو عبرت کے لیے اسپتال جانا چاہیے۔ قبرستان میں ”مصیبت زدہ زمین کے نیچے ہوتا ہے۔ اور اسپتال میں مصیبت زدہ زمین کے اوپر دکھائی دیتا ہے۔ قبرستان میں عبرت کی چیز کو سوچ کر تصور میں لانا پڑتا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader