اللہ اکبر
Urdu book, p. 261
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے ۔ اوراسپتال میں عبرت کی چیز بالکل زندہ حالات میں آنکھ کے سامنے موجود ہوتی ہے۔ اسپتال گویا زندہ قبرستان ہے۔ اسپتال کی دنیا سراپا عبرت کی دنیا ہوتی ہے۔ کوئی آدمی حادثہ کا شکار ہو کر یہاں آیا ہے۔ کوئی سخت بیماری میں مبتلا ہے۔ کسی کے جسم میں کوئی ضروری چیز کم ہوگئی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ کوئی شخص کراہ رہا ہے۔ کوئی چیخ رہا ہے۔ غرض بے بسی و بے چاری کے عبرت ناک مناظر ہیں جو اسپتال میں ہر طرف بکھرے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ مناظر اس لیے دکھائے جاتے ہیں کہ آدمی ان سے سبق لے ۔ وہ دوسروں کی تکلیف میں اپنی تکلیف کا عکس دیکھے۔ وہ جزئی واقعہ میں کلی حقیقت کا مشاہدہ کرے ۔ وہ دنیا کے واقعہ میں آخرت کے واقعات کا احساس کرلے۔ ایسے مناظر ہر آدمی کے سامنے آتے ہیں۔ مگر بہت کم لوگ ہیں جو ان سے سبق لیتے ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سبق لینے کے لیے غیر کی حالت کو اپنے اوپر طاری کرنا پڑتا ہے۔ جو کچھ ابھی پیش نہیں آیا اس کا احساس اس طرح کرنا پڑتا ہے گویا کہ وہ پیش آچکا ہے۔ یہ مستقبل کو حال کے اندر دیکھنا ہے اور کتنے لوگ ہیں جو مستقبل کو حال کے اندر دیکھنے والی نظر رکھتے ہوں۔ اسم اعظم کیا ہے ایک بزرگ سے ان کے شاگردوں نے پوچھا کہ اللہ کا اسم اعظم کیا ہے۔ بزرگ نے فرمایا : جب آدمی کا پیٹ غذا سے خالی ہو اور اس کا دل کینہ سے خالی ہو تو وہ اللہ کے ناموں میں سے جس نام سے بھی اپنے رب کو پکارے گا وہی اسم اعظم ہوگا ( تذکرۃ الاولیاء ) ۔ گویا اسم اعظم کا تعلق ”اسم“ سے نہیں بلکہ کیفیت سے ہے۔ اسم اعظم وہ ہے جو اعلیٰ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader