Urdu book · اللہ اکبر

اسمِ اعظم کیا ہے

Urdu book, p. 262

By Maulana Wahiduddin Khan

كيفيات کے ساتھ زبان سے نکلے۔ كيفيات کی عظمت کسی اسم کو اسم اعظم بناتی ہے نہ کہ حروف تہجی کی عظمت۔ پیٹ خالی ہونا اس بات کی علامت ہے کہ آدمی مادیات کے غلبہ سے آزاد ہے اور دل میں کینہ نہ ہونا بتاتا ہے کہ آدمی اپنے سینہ میں کسی قسم کی نفسیاتی پیچیدگی لیے ہوئے نہیں ہے۔ جب کوئی آدمی اپنے کو مادی رونقوں سے اور انسانی شکایتوں سے اوپر اٹھا لیتا ہے تو وہ خدا کے بہت قریب ہو جاتا ہے۔ اس کو خدا کے خصوصی فیضان میں سے حصہ ملنے لگتا ہے۔ ایسے وقت میں خدا کے صفاتی ناموں میں سے کوئی نام جب اس کی زبان پر آتا ہے تو وہ ربانی کیفیات میں نہایا ہوا ہوتا ہے۔ ان كيفيات کے ساتھ جو بہتر نام آدمی کی زبان سے نکلے وہی اس کے لیے اسم اعظم ہے۔ کچھ لوگ اسلام کے معاملہ کو پاک کلمات کا ایک پراسرار معاملہ سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اسلام کے کچھ خاص عربی الفاظ ہیں جن میں طلسماتی اوصاف چھپے ہوئے ہیں۔ اگر کوئی شخص ان پاک الفاظ کو یاد کر لے اور زبان سے ان کو ادا کرے تو ان کی صرف ادائیگی سے کراماتی نتائج ظاہر ہونا شروع ہو جائیں گے۔ دنیا میں آل و اولاد میں برکت ہوگی اور آخرت میں جنتی محل بننے لگیں گے۔ ان کے نزدیک ان بابرکت کلمات میں سب سے زیادہ اونچا ”اسم اعظم‘‘ ہے۔ مگر یہ محض بے بنیاد خیال ہے جس کا کوئی ثبوت کتاب وسنت میں موجود نہیں۔ اسم اعظم حقیقۃً حروف کے کسی مجموعہ کا نام نہیں بلکہ كيفيات کے مجموعہ کا نام ہے۔ اللہ کو جب کوئی بندہ اس طرح یاد کرتا ہے کہ وہ ہر دوسری چیز سے اپنا رخ موڑ کر صرف اس کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ وہ اللہ میں اپنے آپ کو اس طرح شامل کرتا ہے کہ انسانوں کے لیے اس کے دل میں خیر خواہی کے سوا کوئی اور جذبہ باقی نہیں رہتا تو اس وقت اس کی زبان سے اللہ کے لیے جو کلمات نکلتے ہیں ، اسی کا نام اسم اعظم ہے۔ اسی لیے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page