جھوٹی دھوم
Urdu book, p. 264
By Maulana Wahiduddin Khan
اور تلک کی دھوم تھی۔ اب اس سے آگے بڑھ کر بمبئی کی ایک فرم سے ہیلی کاپٹر کرایہ پر حاصل کیے جا رہے ہیں۔ شادیوں میں ہیلی کاپٹر کا استعمال کیوں کیا جا رہا ہے، اس کا جواب اخباری رپورٹر نے ان الفاظ میں دیا ہے: The parents of the bride expect the barat to reach village with adequate pomp and show. دلہن کے والدین امید کرتے ہیں کہ بارات ان کے گاؤں میں دھوم دھام کے ساتھ آئے۔ انسان سمجھتا ہے کہ اس کی سواری کسی دولہا یا کسی دلہن کے گھر اترنے والی ہے۔ اس لیے وہ شان وشوکت کے ساتھ اپنی سواری لے جانے کا اہتمام کر رہا ہے۔ اگر انسان کو یہ معلوم ہو کہ اس کی سواری بالآخر جہاں پہنچنے والی ہے وہ مالک کائنات کی عدالت ہے تو انسان کی سوچ یکسر بدل جائے۔ اس کو معلوم ہو کہ شان والی شادی اور بے شان والی شادی میں کوئی فرق نہیں۔ کوئی شخص اپنی قتل گاہ کی طرف دھوم مچاتا ہوا نہیں جاتا۔ کوئی شخص ایک ایسی عدالت میں جشن کے ساتھ داخل نہیں ہوتا جہاں ایک با اختیار جج اس کے خلاف فیصلہ سنانے کے لیے بیٹھا ہو ہو مگر اپنی آخری منزل کے بارے میں ہر آدمی اسی نادانی میں مبتلا ہے۔ کامیاب انسان وہ ہے جس کی سواری خدا کے یہاں با عزت طور پر اتاری جائے اور نا کام انسان وہ ہے جو خدا کے یہاں اس حال میں پہنچے کہ وہاں اس کی حیثیت ایک غیر مطلوب انسان کی ہو۔ وہاں نہ کوئی اس کا استقبال کرنے والا ہو اور نہ کوئی اس کی خبر گیری کرنے والا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader