Urdu book · اللہ اکبر

لطیف تجربات

Urdu book, p. 265

By Maulana Wahiduddin Khan

لطیف تجربات الاصمعی عبدالملک بن قریب کا بیان ہے کہ میں نے بصرہ میں دیکھا کہ دو قبریں ہیں ، ان کے درمیان ایک لڑکی بیٹھی ہوئی رو رہی ہے۔ غم کی وجہ سے اس کا براحال ہو رہا ہے ۔ میں قریب ہوا تو میں نے سنا کہ وہ ان الفاظ میں دعا کر رہی ہے : اللَّهُمَّ إِنَّكَ لَمْ تَزَلْ قَبْلَ كُلِّ شَيْءٍ ، وَأَنْتَ الْكَائِنُ بَعْدَ كُلِّ شَيْءٍ ، وَقَدْ خَلَقْتَ وَالِدَيَّ قَبْلِي وَ خَلَقْتَنِي بَعْدَهُمَا مِنْهُمَا أَنَسْتَنِي بِقُرْبِهِمَا مَا شِئْتَ ، ثُمَّ أَوْ حَشْتَنِي مِنْهُمَا ، إِذَا شِئْتَ ، فَكُنْ لِي وَلَهُمَا مُؤْنِسًا ، وَ كُنْ لِي بَعْدَهُمَا حَافِظًا (ترتیب الأمالي الخميسية للشجري : 1454)۔ یعنی ، اے اللہ ، تو ہی سب سے پہلے ہے اور تو ہی سب سے بعد ہے۔ تو ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے ، اے میرے رب تو نے ہی میرے ماں باپ کو مجھ سے پہلے پیدا کیا ، اس کے بعد ان دونوں سے مجھ کو پیدا کیا ۔ تو نے ان کے ساتھ مجھے سکون دیا جب تک تو نے چاہا اور پھر جب چاہا تو نے ان کو مجھ سے جدا کر دیا ۔ اے اللہ ، تو مجھ پر اور ان دونوں پر رحم فرما اور ان کے بعد میری حفاظت فرما۔ اصمعی کا بیان ہے کہ اس لڑکی کے حسن کلام نے میری عقل کو مبہوت کر دیا۔ میں نے اس سے کہا کہ اے بیٹی اپنے کلام کو پھر ایک بار دہراؤ۔ یہ سن کر اس نے اپنا سر اٹھایا اور میری طرف دیکھ کر بولی : اے شیخ ، خدا کی قسم میں تمہاری بیوی نہیں کہ تم مجھ سے اس قدر بے تکلف ہو ۔ تم کو اپنے گھر والوں سے بے تکلف ہونا چاہئیے ۔ اصمعی کہتے ہیں: خدا کی قسم میں یہ سن کر شرما گیا اور وہاں سے بھاگ آیا (فقفررت والله عنها حياء منها)۔ ایک معمولی لڑکی کے لیے یہ کیسے ممکن ہوا کہ وہ اتنے گہرے انداز میں دعا کرے۔ اس کی وجہ وہ حادثہ تھا جو اس پر گزرا۔ آدمی جب کسی جھٹکے سے دوچار ہوتا ہے تو اس کے اندر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page