اللہ اکبر
Urdu book, p. 27
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ جملہ اس وقت صحیح ہوتا جب کہ ایسی کوئی مادی مشین ہوتی جو کسی بنانے والے کے بغیر بن جائے اور کسی چلانے والے کے بغیر چلنے لگے۔ ہم جن مشینوں سے واقف ہیں ان کو ”انسان“ بناتا اور چلاتਾ ہے۔ اس کے باوجود یہ حال ہے کہ یہ مشین نقص سے خالی نہیں۔ پھر کیسے ممکن ہے کہ کائنات جیسا بے عیب کارخانہ اپنے آپ وجود میں آجائے اور اپنے آپ نہایت درست طور پر مسلسل چلتا رہے۔ خدا کا بندہ بجلی کے بلب کا کنکشن ایک پاور ہاؤس سے جڑنا کوئی عام قسم کا واقعہ نہیں۔ یہ ایک غیر روشن چیز کا ایسی چیز سے جڑنا ہے جو دوسری چیزوں کو روشن کرنے کی غیر معمولی طاقت رکھتی ہے۔ اس کا فوری نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایک ”مردہ“ بلب ”زندہ“ بلب بن جاتا ہے۔ ایک تاریک بلب میں روشنی کا فوارہ پھوٹ پڑتا ہے۔ ایسا ہی کچھ معاملہ بندے اور خدا کے تعلق کا بھی ہے۔ خدا ہماری دنیا کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ اسی لیے خدا کو پانا محض سادہ واقعہ نہیں۔ یہ نفسیات انسانی میں پیش آنے والا سب سے بڑا واقعہ ہے۔ یہ ایک بھونچال ہے جس سے آدمی کا پورا وجود ہل جاتا ہے۔ یہ ایک سیلاب ہے جس سے آدمی کی پوری شخصیت نہا اٹھتی ہے۔ خدا کو پانے کے بعد کوئی شخص ویسا نہیں رہتا جیسا وہ خدا کو پانے سے پہلے تھا۔ خدا کا مومن وہ ہے جو اس کے بعد ایک نیا انسان بن جائے۔ خدا کو پانا جس کو شریعت کی اصلاح میں ایمان کہا جاتا ہے، کسی انسان کے لیے اس کی زندگی کا سب سے بڑا تجربہ ہے۔ خدا پر ایمان یہ ہے کہ ایمان آدمی کو اس طرح ملے کہ وہی اس کی زندگی بن جائے۔ وہ ایسی روشنی ہو جس سے اس کا پورا وجود چمک اٹھے۔ وہ ایسا رنگ ہو جس میں اس کے سارے معاملات رنگے ہوئے نظر آئیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader