Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 272

By Maulana Wahiduddin Khan

گار ہیں اسی احتیاج میں مبتلا ایک شخص ہمارے سامنے کر دیا جاتا ہے تا کہ ہم کسی استحقاق اور دباؤ کے بغیر اس کے ساتھ اچھا سلوک کر کے خدا سے کہیں کہ خدایا تو بھی ہمارے ساتھ بہتری کا معاملہ فرما جب کہ تیرے اوپر نہ ہمارا کوئی حق ہے اور نہ کوئی دباؤ۔ عاجز انسان کے ساتھ حسن سلوک دراصل خدا کے سامنے اپنی حیثیت عجز کا اققرار ہے۔ یہ اپنی دعا کو خدا کے آگے عمل کی صورت میں دہرانا ہے۔ یہ خدا کے سامنے اپنی بے یار ومددگار حیثیت کی دریافت ہے ایک مومن جب کسی ایسے آدمی کو دیکھتا ہے تو اس کے روپ میں وہ خود اپنے آپ کو خدا کے مقابلہ میں دیکھنے لگتا ہے۔ یہ ادراک اس کو تڑپا دیتا ہے۔ وہ چاہنے لگتا ہے اس بے سہارا آدمی کو وہ سب کچھ دے دے جو اس کے پاس ہے تا کہ وہ اپنے خدا سے وہ سب کچھ پا سکے جو خدا کے پاس ہے۔ دوسرے کی مدد کرنا گویا خدا سے یہ دعا کرنا ہے کہ خدایا تو بھی اسی طرح میری مدد کر۔ سرسبز درخت درخت جب بلند ہو کر فضا میں اپنی شاخیں پھیلاتا ہے اور ایک ہرے بھرے وجود کی صورت میں زمین پر کھڑا ہو جاتا ہے تو وہ دیکھنے والوں کی نظر میں کتنا حسین ہوتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی ذات میں ایک کامل وجود ہے۔ اس نے وہ سب کچھ پالیا ہے جو اسے پانا تھا، اس نے کائنات میں اپنے لیے وہ جگہ حاصل کر لی ہے جو اسے درکار تھی۔ اس کے برعکس، انسان کو دیکھیے تو انسان ایک محروم اور ناکام وجود نظر آتا ہے۔ یہاں پائے ہوئے لوگ بھی اندر سے خالی ہیں۔ کامیاب لوگ بھی مستقل طور پر ناکامی کے احساس سے دوچار ہیں۔ انسان اس کائنات کی اعلیٰ ترین مخلوق ہے۔ وہ دوسری تمام چیزوں سے برتر اوصاف اپنے اندر رکھتا ہے۔ ایسی حالت میں اس کا دوسری انواع سے پیچھے ہونا کس قدر عجیب ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page