اللہ اکبر
Urdu book, p. 273
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک درخت کا دوسرے درخت سے کوئی ٹکراؤ نہیں، جب کہ ایک انسان دوسرے انسان سے لڑتا ہے۔ جس درخت سے جس پھل کی امید کی جاتی ہے وہ ہمیشہ اپنی شاخ پر وہی نکالتا ہے۔ جب کہ انسان کا حال یہ ہے کہ اس سے جو امید کی جائے اس پر وہ پورا نہیں اترتا۔ درخت اپنے دشمن کو بھی سایہ دیتا ہے اور اپنے دوست کو بھی۔ جب کہ انسان اپنے دوست کے لیے کچھ ثابت ہوتا ہے اور غیر دوست کے لیے کچھ۔ اس فرق کا کوئی پراسرار سبب نہیں۔ اس کا سبب دونوں کے مطالعہ سے بہ آسانی معلوم کیا جا سکتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ درخت اور دوسری چیزیں اپنے خالق کے نقشہ پر قائم ہیں۔ اس کے برعکس، انسان اپنے خالق کے نقشہ پر قائم نہیں۔ یہ کائنات ایک مرکزی اور مجموعی نقشہ کے مطابق بنی ہے۔ یہاں امن وسکون اس مرکزی اور مجموعی نقشہ سے مطابقت کے ذریعہ ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ یہاں کامیابی کائناتی منصوبہ سے ہم آہنگی کی قیمت ہے اور ناکامی اس سے ہم آہنگ نہ ہونے کی قیمت۔ خدا کی طرف سے جو پیغمبر آتے ہیں وہ دراصل اسی خلا کو پر کرنے کے لیے آتے ہیں۔ پیغمبروں کی تعلیمات یہ بتاتی ہیں کہ انسان کس طرح اپنے آپ کو کائنات کی مجموعی اسکیم سے ہم آہنگ کرے۔ وہ کس اسلوب حیات کو اختیار کرے کہ وہ بھی خدا کی دنیا میں ایک ”ہرا بھر ا درخت بن کر کھڑا ہو سکے۔ چڑیا اور انسان سالم علی (1987-1896) چڑیوں کے مطالعہ کے بہت بڑے ماہر ہیں۔ ابھی وہ صرف دس سال کے تھے کہ انہیں چڑیوں کے مطالعہ سے دلچسپی ہو گئی۔ انھوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ اس طرح گزارا ہے کہ ہاتھ میں دوربین ہے۔ ایک کندھے سے کیمرہ لٹک رہا ہے اور چڑیوں کے مشاہدہ اور مطالعہ میں مصروف ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ انھوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader