چڑیا اور انسان
Urdu book, p. 274
By Maulana Wahiduddin Khan
نے اس سلسلے میں جو ابہر لال نہرو سے بھی زیادہ سفر کیے ۔ حتی کہ لوگ انہیں چڑیا والا (Birdman) کہنے لگے ۔ اس فن میں مہارت کی وجہ سے ان کو بہت سے ملکی اور غیر ملکی انعامات مل چکے ہیں ۔ ہندوستان میں دو ہزار سے زیادہ اقسام کی چڑیاں پائی جاتی ہیں ۔ سالم علی نے ان کا مطالعہ کر کے بہت سی کتابیں لکھی ہیں۔ ان کی ایک کتاب کا نام (The Handbook of Indian Birds ) ہے۔ یہ کتاب انھوں نے 20 سال کے مطالعہ کے بعد لکھی۔ ایک اخبار کا نمائندہ بمبئی میں ان کے مکان پر ان سے ملا۔ اس نے سالم علی کو نہایت شریف اور مہذب انسان پایا۔ اس کا خیال ہے کہ سالم علی میں یہ غیر معمولی شرافت چڑیوں کے مطالعہ سے آئی ہے۔ اس نے اپنی رپورٹ (ٹائمس آف انڈیا، 25 ستمبر 1983) میں لکھا کہ انسان کو زیادہ انسانیت والا بنانے کے لیے غالباً یہ تجویز کیا جانا چاہیے کہ چڑیوں کے مطالعہ کو داخل نصاب کر دیا جائے: Perhaps a course in bird-watching should be recommended to make men more human. دنیا میں بے شمار قسم کی چڑیاں اور جانور پائے جاتے ہیں۔ قدیم زمانہ کا انسان ان کے بارے میں بہت کم جانتا تھا۔ مگر موجودہ زمانہ میں زمین پر پائے جانے والے مختلف جانوروں کا وسیع مطالعہ کیا گیا ہے اور ان سے متعلق معلومات جمع کی گئی ہیں۔ جانوروں کے طرز زندگی سے انسان کو باخبر کرنے کے لیے آج کل مختلف ذریعہ اختیار کیے گئے ہیں۔ جانور کے کھلے پارک اور چڑیا گھر قائم کرنے کا مقصد یہ بھی ہے۔ حتیٰ کہ اب بہت سی یونیورسٹیوں میں جنگلی جانوروں کی زندگی کے مضامین باقاعدہ نصاب میں شامل کیے گئے ہیں ۔ جانوروں میں انسان کے لیے بہتر نمونے موجود ہیں ۔ ہر جانور نہایت صحیح فطری زندگی گزارتا ہے ۔ جب کہ انسان بار بار فطرت کے راستہ سے ہٹ جاتا ہے۔ انسان اگر جانوروں کی تقلید کرے تو یہی اس کی نجات کے لیے کافی ہو جائے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader