Urdu book · اللہ اکبر

جنت صبر کے اُس پار ہے

Urdu book, p. 275

By Maulana Wahiduddin Khan

جنت صبر کے اُس پار ہے صالح سماج بنانے کا سارا دار و مدار اس چھوٹی سی بات پر ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کے ساتھ اس طرح رہے کہ دونوں اپنے آپ کو قابو میں رکھے ہوئے ہوں۔ جس چیز کو اسلامی نظام کہا جاتا ہے وہ کسی قسم کے سیاسی اکھڑ پچھاڑ سے وجود میں نہیں آتا۔ اور نہ گولی اور پھانسی کی منطق سے اس کو بر پا کیا جا سکتا ہے۔ جو لوگ اس قسم کی کارروائیوں سے اسلامی نظام قائم کرنے کا اعلان کرتے ہیں، وہ یقینی طور پر یا تو غیر سنجیدہ ہیں یا مجنون ہیں۔ اسلامی نظام یا اسلامی سماج اس وقت وجود میں آتا ہے جب کسی انسانی مجموعہ کی قابل لحاظ تعداد میں یہ مزاج پیدا ہو جائے کہ وہ اپنے آپ کو قابو میں رکھ کر زندگی گزارنے لگے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو شکایتوں اور تلخیوں سے اوپر اٹھ کر جینا جانتے ہوں۔ جو اپنے خلاف مزاج باتوں کو نظر انداز کر دینے کی طاقت رکھتے ہوں۔ جو اپنی غلطی کو فوراً محسوس کر لیں اور اس کا اعتراف کرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔ جو دوسروں کو الزام دینے کے بجائے خود ذمہ داری قبول کر لیں۔ جو غلط فہمی کے مواقع پر خوش فہمی سے کام لینے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔ جو کسی انسان کو اس کے ”آج“ کے بجائے اس کے ”کل“ کے لحاظ سے دیکھ سکیں۔ یہ سب کچھ ٹھنڈے طریقہ سے نہیں ہوتا۔ اس کے لیے آدمی کو برداشت کی تلخیاں جھیلنی پڑتی ہیں۔ اس کے لیے ضرورت ہوتی ہے کہ الفاظ رکھتے ہوئے آدمی نہ بولے۔ وہ ہر وار کو اپنے اوپر سلے۔ وہ اپنے سینہ کو دبے ہوئے جذبات کا قبرستان بنا دے۔ مختصر یہ ہے کہ اپنے تمام حقوق کو وہ آخرت کے خانہ میں ڈال دے اور اپنی تمام ذمہ داریوں کو دنیا کے خانہ میں۔ حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ جہنم کو لذتوں سے ڈھانک دیا گیا ہے اور جنت کو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page