اللہ اکبر
Urdu book, p. 276
By Maulana Wahiduddin Khan
ناخوش گواریوں سے ڈھانک دیا گیا: حُجِبَتِ النَّارُ بِالشَّھَوَاتِ، وَحُجِبَتِ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِہِ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6487)۔ جو آدمی اپنے جی کی راہ پر بے روک ٹوک چلے وہ سیدھا جہنم میں پہنچ جاتا ہے۔ اس کے برعکس، جو شخص جنت میں اپنی جگہ لینا چاہے اس کو اپنی خواہشات پر روک لگانا ہوگا۔ اپنے اٹھنے والے محرکات کو دبانا ہوگا۔ ناپسندیدہ باتوں کو برداشت کرنا ہوگا۔ اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنا ہوگا، خواہ ان کا پورا کرنا اس کے لیے کتناہی تلخ ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ جنت صبر کے اُس پار ہے، اگرچہ لوگ اپنی نادانی سے اس کو بے صبری کے اُس پار سمجھ لیتے ہیں۔ عمل کا فرق ایک ایسا کمپیوٹر بنایا جا سکتا ہے جو اپنی صورت کے اعتبار سے بالکل انسان کی طرح دکھائی دیتا ہو۔ اس سے آپ کہیں کہ ’’پانی لاؤ‘‘ اور وہ چل کر مقررہ مقام پر جائے اور وہاں سے پانی کا گلاس لاکر آپ کو پیش کردے۔ مگر کمپیوٹر کے اس عمل پر اس کے لیے کوئی جزا نہیں ہے۔ دوسری طرف ایک انسان ہے۔ اس نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ پیاس سے بیتاب ہے۔ اس کی حالت دیکھ کر اسے رحم آگیا۔ وہ روانہ ہوا کہ ٹھنڈا پانی لاکر اس پیاسے آدمی کو پلائے۔ اس وقت اس کے دل میں جذبات کا طوفان برپا تھا۔ اس کی زبان سے نکلا: خدایا تو اس دن مجھے ٹھنڈا پانی پلاجس دن تیرے سواکسی کے پاس پانی نہیں ہوگا۔ اس دن مجھ کو اپنے سایہ میں لے لے جس دن تیرے سواکسی کے لیے سایہ نہ ہوگا۔ اس نے ٹھنڈے پانی کا گلاس لیا اور اس کو لے کر پیاسے کے پاس اس حال میں آیا کہ ایک طرف بھرے ہوئے پانی سے گلاس چھلک رہا تھا۔ اور دوسری طرف خدا کے خوف سے آنسوؤں کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader