اللہ اکبر
Urdu book, p. 277
By Maulana Wahiduddin Khan
طوفان اس کی آنکھوں میں امڈ رہا تھا۔ عین ممکن ہے کہ آدمی کا یہ عمل اللہ کو اتنا زیادہ پسند آ جائے کہ اس عمل پر اس کی بخشش ہو جائے۔ کمپیوٹر اور انسان میں یہ فرق کیوں ہے۔ جو کام انسان نے کیا وہی کام کمپیوٹر نے بھی کیا۔ مگر انسان کو ایک گلاس پانی کے بدلے جنت دے دی گئی۔ جب کہ کمپیوٹر کو اسی قسم کے ایک گلاس پانی پر کوئی انعام نہیں ملا۔ اس کی وجہ جذبہ کا فرق ہے۔ کمپیوٹر کا عمل بے شعوری کی سطح پر تھا اور انسان کا عمل شعور کی سطح پر۔ کمپیوٹر نے بے حسی کے تحت اپنا کام انجام دیا اور انسان نے احساس کے تحت۔ اسی فرق کا یہ نتیجہ تھا کہ ایک کو اپنے کام پر کوئی جزا نہیں ملی اور دوسرے کو اسی عمل پر ابدی جنت لکھ دی گئی۔ یہی وہ فرق ہے جس کو شریعت میں قساوت اور احتساب کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ قساوت کا مطلب ہے بے حسی۔ اس سے مراد وہ عمل ہے جو محض ظاہری اعضاء سے انجام دیا جائے، جس میں انسان کی اپنی نفسیات شامل نہ ہو۔ اس کے مقابلہ میں احتساب کا مطلب ہے اللہ کی رضا کو سامنے رکھ کر کوئی کام کرنا۔ قساوت اور احتساب کا یہ فرق تمام معاملات میں ہے۔ کوئی بھی دینی عمل اللہ کے یہاں اسی وقت مقبول ہوتا ہے جب کہ وہ حساسیت کی سطح پر انجام دیا گیا ہو، بے حسی کی سطح پر کیا ہوا عمل ایک قسم کا مشینی عمل ہے اور مشینی عمل اللہ تعالیٰ کے یہاں مطلوب نہیں۔ پلاسٹک کے پھل اور پھول آجکل پلاسٹک کے پھول اور پھول بنتے ہیں۔ دیکھنے میں بالکل پھول اور پھل کی طرح معلوم ہوں گے لیکن سونگھئے تو اس میں پھول کی خوشبو نہیں اور منہ میں ڈالیے تو اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader