پلاسٹک کے پھل اور پھول
Urdu book, p. 278
By Maulana Wahiduddin Khan
میں پھل کا مزہ نہیں ۔ اسی طرح موجودہ زمانہ میں دین داری کی عجیب و غریب قسم وجود میں آئی ہے ۔ بظاہر اس میں دھوم کی حد تک دین دکھائی دے گا۔ لیکن قریب سے تجربہ کیجئے تو وہی چیز موجود نہ ہوگی جو دین کا اصل خلاصہ ہے: اللہ کا ڈر اور انسان کا درد ۔ پلاسٹک کے دور میں شاید دین داری بھی پلاسٹک کی دین داری بن کر رہ گئی ہے ۔ لوگ دین دار ہیں مگر کوئی شخص اپنی غلطی ماننے کے لیے تیار نہیں ۔ کوئی شخص اللہ کی خاطر اپنی اکڑ ختم کرنا نہیں جانتا۔ ذاتی فائدے کی خاطر بے شمار لوگ اپنے اختلاف اور شکایت کو بھول کر دوسروں سے جڑے ہوئے ہیں مگر خدا کی زمین پر کوئی نہیں جو خدا کے لیے اپنے اختلاف و شکایت کو بھول کر دوسروں سے جڑ جائے۔ دین اصلًا اس کا نام ہے کہ آدمی اس حقیقت کو پا جائے کہ اس کا ئنات کا ایک خدا ہے ۔ اسی نے تمام چیزوں کو بنایا ہے۔ وہ موت کے بعد تمام انسانوں کو جمع کر کے ان سے حساب لے گا اور پھر ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق یا تو ابدی جنت میں داخل کرے گا یا ابدی جہنم میں ۔ یہ حقیقت اتنی سنگین ہے کہ اگر وہ فی الواقع کسی کے دل ودماغ میں اتر جائے تو اس کی زندگی کچھ سے کچھ ہو جاتی ہے۔ وہ ان تمام چیزوں کے بارے میں انتہائی حساس ہو جاتا ہے جو آدمی کو جہنم کی آگ میں پہنچانے والی ہیں اور ان تمام چیزوں کا انتہائی مشتاق ہو جاتا ہے جو آدمی کو جنت کے باغوں کا مستحق بنانے والی ہیں ۔ وہ ہر چیز سے زیادہ اللہ سے ڈرنے لگتا ہے اور ہر چیز سے زیادہ اللہ سے محبت کرنے لگتا ہے ۔ وہ اپنی انفرادی ہستی کو خدا کی عظیم تر ہستی میں کھو دیتا ہے ۔ خدا اور آخرت کے بارے میں اس بڑھی ہوئی حساسیت اس کو بندوں کے بارے میں بھی انتہائی محتاط اور ذمہ دار بنا دیتی ہے۔ ایک انسان سے بد خواہی کرتے ہوئے اسے ایسا محسوس ہوتا ہے گویا وہ اپنے آپ کو جہنم کے گڑھے میں گرا رہا ہے ۔ بندوں کے ساتھ سرکشی کو سلوک کرتے ہوئے وہ اس طرح ڈرنے لگتا ہے جیسے کہ ہر آدمی اپنے ساتھ جہنم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader