Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 279

By Maulana Wahiduddin Khan

کے فرشتوں کی فوج لیے ہوئے ہے۔ اپنے صاحب معاملہ افراد سے بے انصافی کرنا اس کو ایسا معلوم ہوتا ہے گویا اس نے اپنے آپ کو جہنم کے گہرے غار میں دھکیل دیا ہے۔ اب کوئی انسان اس کی نظر میں محض ایک انسان نہیں ہوتا بلکہ ہر انسان ایک ایسا وجود ہوتا ہے جس کے ساتھ خدا اپنے تمام فرشتوں کے ساتھ کھڑا ہوا ہو۔ دونوں ایک سطح پر 31 مارچ 1981 کو تمام دنیا کے اخبارات کی پہلی سرخی یہ تھی ”صدر امریکہ پر قاتلانہ حملہ“۔ ایک نوجوان نے خود کارگن سے صدر رونالڈ ریگن پر حملہ کیا اور دو سیکنڈ میں چھ فائر کیے۔ ایک گولی صدر کے سینہ کو چھید کر ان کے پھیپھڑے میں لگی۔ اسپتال تک پہنچتے پہنچتے ان کے جسم کا آدھا خون بہہ چکا تھا مگر فوری طبی مدد کارگر ثابت ہوئی اور رونالڈ ریگن کی جان بچ گئی۔ رونالڈ ریگن اس سے پہلے ایک فلم ایکٹر تھے۔ فلم کی دنیا میں وہ کوئی ممتاز مقام حاصل نہ کر سکے۔ اس کے بعد انھوں نے سیاست میں حصہ لینا شروع کیا اور بالآخر 1980 کے الیکشن میں امریکہ کے صدر منتخب ہو گئے۔ گولی لگنے کے بعد صدر ریگن نے واشنگٹن کے اسپتال میں ڈاکٹروں اور نرسوں سے بات کرتے ہوئے کہا: If I'd got this much attention in Hollywood, I would never have left. اگر میں ہالی وڈ (فلمی دنیا) میں اتنی زیادہ توجہ کا مرکز بنا ہوتا تو میں فلمی دنیا کو کبھی نہ چھوڑتا (ہندوستان ٹائمس، 1 اپریل 1981)۔ دوسری طرف نوجوان حملہ آور جان ہنکلے (1955) کی روداد کے ذیل میں آیا ہے کہ اس کو نوجوان فلم ایکٹرس جاڈی فاسٹر (1962) سے محبت ہو گئی تھی۔ وہ اس کو خطوط لکھتا رہا مگر مس فاسٹر نے اس کی طرف کوئی توجہ نہ کی۔ بالآخر اس نے حملہ سے ایک دن پہلے مذکورہ ایکٹرس کو خط لکھا جس میں یہ فقرہ تھا:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page