Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 280

By Maulana Wahiduddin Khan

اب تم جان لوگے کہ میں کون ہوں۔ اس خط کے اگلے دن اس نے صدر امریکا پر قاتلانہ حملہ کیا۔ اس کے بعد ایک گمنام نوجوان اچانک ساری دنیا کے اخباروں کی شاہ سرخی بنا ہوا تھا۔ ریڈیو اور ٹیلی ویژن کی خبروں میں اس نے پہلا مقام حاصل کر لیا۔ صرف ایک بندوق کی لبی دبا کر اس نے وہ شہرت حاصل کر لی جو بے شمار لوگوں کو ساری عمر کام کرنے کے بعد بھی نہیں ملتی۔ ایک آدمی بظاہر مجرم ہوا اور دوسرا بظاہر بے قصور مگر دونوں شہرت کے طالب ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں کے جینے کی سطح ایک ہے۔ دنیا کا قانون لوگوں سے ان کے ظاہر کے اعتبار سے معاملہ کرتا ہے، آخرت وہ مقام ہے جہاں لوگوں سے ان کے باطن کے اعتبار سے معاملہ کیا جائے گا۔ ایک شخص نام ونمود کے لیے دین کا علم بردار بنے، دوسرا شخص نام ونمود کے لیے لیڈری کرے تو دین دار کا انجام بھی وہی ہوگا جو خود پسند لیڈروں کا خدا کے یہاں ہونے والا ہے۔ جانور سے بدتر شیخ سعدی نے کہا تھا، میں خدا سے ڈرتا ہوں۔ اور خدا کے بعد اس شخص سے ڈرتا ہوں جو خدا سے نہیں ڈرتا‘۔ اسی بات کو شیکسپیئر نے ایک اور انداز سے اس طرح کہا ہے ۔ انسان ہی ایک ایسا جانور ہے جس سے میں بزدل کی طرح ڈرتا ہوں‘‘۔ اس دنیا میں ہر چیز قابل پیشین گوئی کردار رکھتی ہے۔ آگ کے بارے میں آپ پیشگی طور پر یہ اندازہ کر سکتے ہیں کہ اگر آپ نے اس کے اندر ہاتھ ڈالا تبھی وہ آپ کو جلائے گی۔ اگر آپ اپنے ہاتھ کو اس سے دور رکھیں تو وہ ایسا نہیں کرے گی کہ وہ کود کر آپ کے ہاتھ پر آگرے۔ یہی معاملہ تمام چیزوں کا ہے حتیٰ کہ موذی جانوروں کے بارے میں بھی ہم کو پیشگی طور پر معلوم ہے کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page