Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 281

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ یک طرفہ طور پر کسی کے اوپر حملہ نہیں کرتے۔ ان کا حملہ ہمیشہ دفاعی ہوتا ہے نہ کہ جارحانہ۔ اس کا مطلب ہے کہ دنیا کی ہر چیز ایک لگے بندھے قاعدہ کے تحت کام کر رہی ہے اور اس قاعدہ کی رعایت کر کے آپ اس کے نقصان سے بچ سکتے ہیں۔ مگر انسان ہی ایک ایسی مخلوق ہے جس کے عمل کا کوئی اصول اور قاعدہ نہیں۔ وہ مکمل طور پر آزاد ہے اور جس وقت جو چاہے کر سکتا ہے۔ اس دنیا میں انسان ہی ایک ایسا وجود ہے جو یک طرفہ طور پر دوسرے کے خلاف کارروائی کرتا ہے جو کسی واقعی سبب کے بغیر دوسرے کے اوپر حملہ کرتا ہے۔ انسان کے حرص اور انتقام کی کوئی حد نہیں۔ آپ خاموشی کے ساتھ اپنے کام میں مصروف ہوں اور محض ذاتی محنت کی بنیاد پر ترقی کریں تب بھی آپ محفوظ نہیں۔ کیونکہ دوسروں کے اندر حسد کا جذبہ پیدا ہوگا اور وہ آپ کو گرانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے۔ انسان لامحدود طور پر اپنی خواہشیں پوری کرنا چاہتا ہے اور بے حساب حد تک دوسرے کو برباد کر کے اس کی بربادی کا تماشا دیکھنا چاہتا ہے۔ کوئی بدترین موذی جانور بھی اس کو نہیں جانتا کہ وہ کسی کو ذلیل کرنے کا منصوبہ بنائے۔ وہ کسی کو نیچا دکھا کر اپنے غرور کے لیے تسکین کا سامان فراہم کرے ۔ کسی کو خواہ مخواہ مصیبتوں میں پھنسا کر اس کی پریشانی کا تماشا دیکھے ۔ یہ صرف انسان ہے جو ایسا کرتا ہے۔ خدا نے انسان کو احسن تقویم کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ مگر انسان اپنی نادانی سے اپنے آپ کو اسفل سافلین کی پستی میں گرا لیتا ہے۔ امتحان کا کام کالج میں امتحان ہورہا تھا۔ ایک طالب علم امتحان ہال میں داخل ہوا۔ مگر اس نے امتحان کی کاپی پر کچھ نہیں لکھا۔ وہ بس بیٹھا ہوا سگریٹ پیتا رہا اور تین گھنٹہ گزار کر باہر چلا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page