امتحان کا کام
Urdu book, p. 282
By Maulana Wahiduddin Khan
آیا۔ اس کے بعد وہ لائبریری پہنچا اور وہاں کتابوں کے درمیان بیٹھ کر پرچہ حل کرنا شروع کر دیا۔ امتحان ہال میں اس نے اپنی کاپی سادہ چھوڑ دی تھی مگر لائبریری میں اس نے اپنی کاپی بھر ڈالی۔ آپ کہیں گے کہ یہ فرضی کہانی ہے۔ کوئی طالب علم اتنا بے وقوف نہیں ہو سکتا کہ امتحان ہال میں پرچہ حل نہ کرے اور لائبریری میں بیٹھ کر کاپی بھرنے لگے۔ اور اگر یہ واقعہ سچا ہو تو یقیناً وہ کوئی ایسا طالب علم ہو گا جس کا دماغ صحیح نہ ہو۔ یہ درست ہے کہ اس قسم کی حرکت کوئی پاگل طالب علم ہی کر سکتا ہے۔ مگر دنیا کے امتحان کے معاملہ میں جو بات لوگوں کو اتنی عجیب معلوم ہوتی ہے، آخرت کے معاملہ میں ہر شخص اسی طریقہ پر عمل کر رہا ہے۔ کالج کے ذمہ دار طلبہ کا امتحان جہاں لینا چاہتے ہیں وہ امتحان ہال ہے نہ کہ لائبریری۔ اسی طرح خدا کے بھی امتحان لینے کے مقامات ہیں۔ مگر لوگوں کا حال یہ ہے کہ خدا نے امتحان کے جو مقامات مقرر کیے ہیں وہاں لوگ امتحان میں پورا اترنے کی کوشش نہیں کرتے۔ اس کے بجائے وہ دوسرے مقامات پر خدا پرستی اور دین داری کا کمال دکھارہے ہیں۔ خدا آدمی کے ایمان کا ثبوت دل کی انابت میں دیکھنا چاہتا ہے اور لوگ اپنے ایمان کا ثبوت کلمہ ایمان کے مخارج میں دے رہے ہیں۔ خدا آدمی کی عبادت کو خشوع کے معیار پر جانچ رہا ہے اور لوگ مسائل کی پابندی میں اپنی عبادت گزاری کا ثبوت فراہم کر رہے ہیں۔ خدا لوگوں کے دین کو کردار اور معاملات کی سطح پر جانچ رہا ہے اور لوگ اشراق اور چاشت کے فضائل میں اپنی دین داری کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ خدا چاہتا ہے کہ آدمی اپنے آپ پر خدا کی حکومت قائم کرنے والا بنے اور لوگ کسی خارجی شخص کے خلاف اکھاڑ پچھاڑ کر کے حکومت خداوندی کے قیام کا کریڈٹ لینے میں مصروف ہیں۔ خدا کسی آدمی کو جہاں مظلوموں کی حمایت کرنے والا دیکھنا چاہتا ہے وہ مظلوم فرد ہے مگر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader