Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 283

By Maulana Wahiduddin Khan

لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ ظلم و فساد کے اجتماعی واقعات پر تقریریں اور بیانات پیش کرکے اپنے کو مظلوموں کے حامی ثابت کرنے لگے ہوئے ہیں۔ ہر آدمی جانتا ہے کہ کسی طالب علم کی وہ کاپی بالکل بے کار ہے جو امتحان ہال کے بجائے لائبریری میں بیٹھ کر بھری گئی ہو۔ کاش لوگ جانتے کہ ٹھیک اسی طرح وہ عمل بے حیثیت ہے جو خدا کے مطلوبہ مقام کے علاوہ کہیں اور پیش کیا گیا ہو۔ عمل کے بغیر آج کاغذ کی اتنی افراط ہے کہ جہاں بھی دیکھیں کاغذ کا ایک ٹکڑا پڑا ہوا ملے گا۔ مگر کاغذ کے ان ٹکڑوں کی کوئی قیمت نہیں۔ نوٹ بھی کاغذ کا ایک ٹکڑا ہے۔ مگر اس کی قیمت ہے۔ اس کی قیمت اتنی یقینی ہے کہ کوئی بھی آدمی اس پر شبہ نہیں کرتا۔ اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ عام کاغذ ٹکڑے کی کسی نے ضمانت نہیں لی ہے جبکہ نوٹ کے پیچھے سرکاری بینک کی ضمانت ہے۔ ہر نوٹ پر سرکاری بینک کی یہ ضمانت ثبت ہوتی ہے کہ وہ اس کے پیش کرنے والے کو وہ رقم پوری ادا کر دے گا جو اس پر چھپی ہوئی ہے۔ یہی ضمانت ہے جس نے نوٹ کے کاغذ کو لوگوں کے لیے قیمتی بنا دیا ہے۔ یہی معاملہ الفاظ کا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ آج جتنے الفاظ بولے جارہے ہیں تاریخ کے کسی دور میں اتنے الفاظ نہیں بولے گئے۔ مگر ان الفاظ کی کوئی قیمت نہیں، کیونکہ ان کے پیچھے اٹل ارادہ کی ضمانت شامل نہیں ہے۔ آپ سے ایک شخص وعدہ کرتا ہے کہ وہ آپ کا فلاں کام کردے گا، مگر جب آپ مقررہ وقت پر اس کی حمایت مانگتے ہیں تو وہ بہانہ کر دیتا ہے۔ آپ مذکورہ شخص کے پاس جو چیز لے کر گئے، وہ اس کے بولے ہوئے الفاظ تھے۔ جب اس نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا تو گویا اس نے اپنے الفاظ کی قیمت ادا نہیں کی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page