اللہ اکبر
Urdu book, p. 284
By Maulana Wahiduddin Khan
نے الفاظ کا کاغذ تو دے دیا، مگر جو عمل اس کا کاغذ کی قیمت تھا اس کو دینے کے لیے تیار نہ ہوا۔ اس کے بولے ہوئے الفاظ ردی کاغذ کے ٹکڑے تھے نہ کہ بینک کا جاری کیا ہوا نوٹ۔ آج کی دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ الفاظ کی سطح پر ہر آدمی بڑے بڑے الفاظ بول رہا ہے، مگر اپنے الفاظ کی عملی قیمت دینے کے لیے کوئی شخص تیار نہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ لوگوں کے بولے ہوئے الفاظ اسی طرح ردی کے پرزے بن کر رہ گئے ہیں جیسے پرزے گلی کو چوں میں ہر وقت پڑے رہتے ہیں اور ہر آدمی ان کو بے قیمت سمجھ کر نظر انداز کر دیتا ہے۔ ایک شخص مظلوموں کی حمایت میں بیانات اور تجویزوں کے انبار لگا رہا ہے مگر جب اس کے قریب کا ایک شخص اس کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے اور اس سے کہتا ہے کہ میری مظلومیت پر میری مدد کرو تو وہ اس کو برف کی طرح بالکل سرد پاتا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آدمی جو لفظ بول رہا تھا اس کے پیچھے اس کا حقیقی ارادہ شامل نہ تھا۔ وہ محض زبانی الفاظ تھے نہ کہ کوئی حقیقی فیصلہ۔ ایک شخص لوگوں کے سامنے شرافت اور تواضع کی تصویر بنا رہتا ہے مگر جب اس کی انا پر چوٹ لگتی ہے تو اچانک وہ حسد اور گھمنڈ کا مظاہرہ کرنے لگتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس کی شرافت محض ظاہری تھی، وہ اس کی روح میں اتری ہوئی نہ تھی۔ دنیا کی خاطر عمل کرنے والے لوگ خوش اخلاق ہیں۔ وہ ہدیے دیتے ہیں اور دعوتیں کرتے ہیں۔ وہ دوسروں کے کام آنے کے لیے دوڑتے ہیں۔ وہ دوسروں کے مسئلہ کو اپنا مسئلہ بناتے ہیں۔ وہ غمی کے موقع پر اظہارِ درد کے لیے پہنچتے ہیں اور خوشی کے موقع پر مبارک باد دینے کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔ وہ اختلاف کے باوجود اختلاف کو بھول جاتے ہیں اور شکایت کے باوجود شکایت کو پی جاتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader