دنیا کی خاطر عمل کرنے والے
Urdu book, p. 285
By Maulana Wahiduddin Khan
لوگ خوش ہیں کہ وہ بالکل ٹھیک ہیں ۔ وہ ویسے ہیں جیسا کہ انہیں ہونا چاہیے ۔ مگر لوگوں کی یہ خوش معاملگی کس کے ساتھ ہے ۔ صرف ان لوگوں کے ساتھ جن سے ان کا کوئی فائدہ وابستہ ہے ۔ جن سے انہیں امید ہے کہ وہ وقت پر ان کے کام آسکتے ہیں ۔ جن سے وہ ڈرتے ہیں ۔ جن کے زور قوت کا رعب ان کے اوپر چھایا ہوا ہے ۔ جن سے کٹ کرو سمجھتے ہیں کہ سارے لوگوں سے کٹ جائیں گے، جن سے جڑ کر وہ سمجھتے ہیں کہ سارے لوگوں سے جڑے رہیں گے ۔ لوگوں کی یہ خوش اخلاقی تمام تر مفاد پرستانہ خوش اخلاقی ہے ۔ اس کا راز اس وقت معلوم ہو جاتا ہے جب کہ معاملہ ایسے شخص سے پڑے جس کے ساتھ خوش اخلاقی برتنے کے لیے مذکورہ محرکات میں سے کوئی محرک موجود نہ ہو ۔ ایسے موقع پر اچانک وہی آدمی بالکل بد اخلاق بن جاتا ہے جو اس سے پہلے نہایت خوش اخلاق دکھائی دے رہا تھا ۔ اب اس کو یہ شوق نہیں ہوتا کہ وہ سلام میں پہل کرے ۔ اب وہ اپنی دعوتوں میں اس کو بلانا بھول جاتا ہے ۔ اب وہ اس کی مشکلوں میں کام آنے کے لیے نہیں دوڑتا ۔ اب وہ معمولی شکایت پر بگڑ کر بیٹھ جاتا ہے ۔ اب اس کو یہ ضرورت محسوس نہیں ہوتی کہ اس کے جذبات کی رعایت کرے ۔ دنیوی فائدہ کے لیے اخلاق دکھانے والا آدمی اس وقت بے اخلاق ہو جاتا ہے جب کہ اس میں کوئی دنیوی فائدہ نظر نہ آتا ہو ۔ لوگوں کو جاننا چاہیے کہ اس قسم کی خوش اخلاق اور انسانیت کی خدا کے نزدیک کوئی قیمت نہیں ۔ وہ کسی آدمی کو جہنم کی آگ سے بچانے والی نہیں خواہ وہ کتنی ہی زیادہ بڑی مقدار میں آدمی کے اندر پائی جارہی ہو ۔ خدا کے ہاں جو کچھ بدلہ ہے صرف اس عمل کا ہے جو خالص خدا کی رضا اور آخرت کی نجات کے لیے کیا گیا ہو ۔ اور جو عمل دنیا میں اپنا معاملہ درست رکھنے کے لیے کیا جائے اس کا خدا کے یہاں کوئی بدلہ نہیں ۔ ایسے اعمال لے کر خدا کے یہاں پہنچنے والوں سے خدا کہہ دے گا ۔ تم نے جو کچھ کیا وہ اپنی دنیا کے لیے کیا ۔ تم دنیا میں اس کا بدلہ پا چکے ۔ اب آخرت میں تمہارے لیے اس کے بدلے میں کچھ نہیں ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader