دو قسم کے انسان
Urdu book, p. 287
By Maulana Wahiduddin Khan
دو قسِم کے انسان قرآن میں ہے کہ ہر جی اپنے کیے میں پھنسا ہوا ہے : كُلُّ نَفْسٍ بِمَا كَسَبَتْ رَهِينَةٌ ( 74:38 ) ۔ لوگ خود اپنے کے حوالے کر دیے جائیں گے : أُولَٰئِكَ الَّذِينَ أُبْسِلُوا بِمَا كَسَبُوا ( 6:70 ) ۔ قیامت میں لوگوں سے کہا جائے گا کہ چکھو جو تم کماتے تھے : ذُوقُوا مَا كُنْتُمْ تَكْسِبُونَ ( 39:24 ) ۔ یہی بات حدیث میں ان لفظوں میں کہی گئی ہے کہ یہ تمھارا اپنا کیا ہے جو تمھاری طرف لوٹایا جائے گا : إِنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ تُرَدُّ إِلَيْكُمْ ( حیاة الاولیاء و طبقات الاصفیاء ، جلد 5 ، صفحہ 125 ) ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر آدمی ایک انڈسٹری ( کارخانہ ) ہے۔ مومن خدا کی انڈسٹری ہے اور غیر مومن شیطان کی انڈسٹری۔ ہر آدمی جو کچھ ہے اس کے مطابق وہ اپنی پیداوار کا ڈھیر لگا رہا ہے۔ خدا کے علم کے مطابق آدمی جب اپنے حصہ کا کام کر چکا ہوتا ہے تو اس پر موت آجاتی ہے۔ اس کے بعد اس کی اگلی زندگی شروع ہوتی ہے جہاں وہ ابدی طور پر اپنی اگائی ہوئی فصل کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ جس نے کانٹوں کی فصل اگائی تھی وہ اپنے آپ کو کانٹوں میں پھنسا ہوا پا تا ہے اور جس نے پھول اور خوشبو کی فصل اگائی تھی وہ پھول اور خوشبو والے باغوں میں ہمیشہ کے لیے چلا جاتا ہے۔ انڈسٹری کیا ہے۔ انڈسٹری وہ نظام ہے جس کے اندر خام مال ڈالا جائے اور پھر وہ تیار شدہ سامان کی صورت میں برآمد ہو۔ ایک انسان وہ ہے جس کو خدا نے بڑائی دی تو اس نے تواضع کی صورت میں اس کا ردعمل پیش کیا۔ اس کا احتساب کیا گیا تو اس نے عجز کی نفیسات کے ساتھ اس کو قبول کیا۔ اس کے پاس دولت آئی تو اس نے خدا کے راستہ میں اس کا استعمال ڈھونڈ نکالا۔ اس کو مواقع ملے تو وہ ان مواقع میں اپنے آپ کو خدا کی خاطر دفن کرنے پر راضی ہو گیا۔ اس نے لوگوں کے اوپر قابو پایا تو وہ ان کے لیے انصاف اور خیر خواہی کا پیکر بن گیا۔ یہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader