اللہ اکبر
Urdu book, p. 288
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ شخص ہے جس نے اس بات کا ثبوت دیا کہ اس نے اپنے اندر خدا کی انڈسٹری قائم کی تھی۔ جو چیز بھی اس کے اندر داخل ہوئی وہ ربانی پیکر میں ڈھل کر باہر نکلی۔ دوسرا انسان وہ ہے جس کی انڈسٹری سے صرف زہر اور انگارے برآمد ہوئے۔ اس کو جب موقع ملا تو اس نے اپنی بڑائی کا جھنڈا بلند کیا۔ اس کے پاس دولت آئی تو اس کو اس نے اپنی نمودونمائش میں خرچ کیا۔ اس نے کسی کے اوپر غلبہ پایا تو اس کی بربادی کے منصوبے بنائے ۔ اس کو کسی سے اختلاف ہوا تو اس کو اس نے زہریلے کلام اور آتشیں عمل کا مزہ چکھایا۔ اس سے جب کسی کا معاملہ پڑا تو اس کو اس سے خود غرضی ، بے انصافی اور دھاندلی کا تجربہ ہوا۔ ایسا آدمی گویا اپنے اندر شیطان کی انڈسٹری قائم کیے ہوئے ہے۔ جو چیز بھی اس کے اندر داخل ہوتی ہے وہ زہر اور آگ اور بدبو بن کر اس کے باہر آتی ہے۔ موت کے بعد اس کی یہ پیدا وار اسے گھیر لے گی۔ وہ اپنے آپ کو خود اپنے بنائے ہوئے جہنم میں پھنسا ہوا پائے گا۔ آپریشن فوئکس (امریکہ) کے اسپتال میں ایک شخص نے داخلہ لیا۔ اس کے پیٹ میں نہایت سخت تکلیف تھی ۔ ڈاکٹروں نے اس کو آپریشن کا کیس قرار دیا۔ چنانچہ اس کے پیٹ کا آپریشن کیا گیا۔ ڈاکٹروں نے حیرت انگیز طور پر پایا کہ اس کے پیٹ میں ایک ہیرا اٹکا ہوا ہے ۔ یہی ہیرا اس کے ناقابل برداشت درد کا سبب تھا۔ ہیرا اس کے پیٹ سے نکال کر الگ کیا گیا۔ اس ہیرے کے ساتھ اب بھی قیمت کا پرچہ لگا ہوا تھا۔ اس پرچہ پر لکھا ہوا تھا 6500 ڈالر۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader