Urdu book · اللہ اکبر

آپریشن

Urdu book, p. 289

By Maulana Wahiduddin Khan

فوراً پولیس طلب کی گئی۔ پوچھ گچھ کے دوران مریض نے بتایا کہ اس کو انعام میں یہ ہیرا ملا تھا اور غلطی سے وہ اس کے پیٹ میں چلا گیا۔ تا ہم بہت جلد معلوم ہو گیا کہ اصل حقیقت کچھ اور ہے۔ یہ شخص ایک بار ہیرے کی ایک دکان میں داخل ہوا اور وہاں ایک ہیرا چرا لیا۔ مگر جب وہ نکلنے کی کوشش کر رہا تھا تو دکان دار کو شبہ ہوا۔ اس نے آدمی کا پیچھا کیا۔ جب آدمی نے دیکھا کہ وہ پکڑا جانے والا ہے تو اس نے ہیرے کو جلدی سے منہ میں ڈالا اور نگل لیا۔ پولیس اس کی تلاش میں تھی مگر وہ ابھی تک پولیس کے ہاتھ نہیں آیا تھا۔ اس کے بعد فوراً اس کو گرفتار کر لیا گیا (ہندوستان ٹائمز ، 5 نومبر 1981 ء)۔ ناجائز طور پر حاصل کیا ہوا ہیرا آدمی کے پیٹ میں ہضم نہ ہو سکا۔ وہ مجبور ہو گیا کہ چھپائے ہوئے ہیرے کو نکال کر باہر لائے اور خود اپنے جرم کا زندہ ثبوت بن جائے ۔ یہی معاملہ شدید تر صورت میں لوگوں کے ساتھ آخرت میں ہوگا ۔ دنیا میں آدمی ایک شخص کا حق دباتا ہے، وہ کسی کو وہ کلمہ اعتراف دینے کے لیے تیار نہیں ہوتا جو ازروئے واقعہ سے دینا چاہیے۔ یہ سب کر کے بھی آدمی موجودہ دنیا میں کامیاب رہتا ہے ۔ زور اور ہوشیاری کے ذریعہ وہ اپنے جرم کو چھپالیتا ہے ۔ مگر یہ صرف اس وقت تک ہے جب تک آدمی موت سے دوچار نہیں ہوتا۔ موت ہر آدمی کے لیے گویا قدرت کا آپریشن ہے جو اس کے اندر کو باہر کر دیتا ہے اور اس کے چھپے کو کھلا بنا دیتا ہے۔ جس طرح ہیرا آدمی کے پیٹ میں ہضم نہیں ہوتا۔ اسی طرح ظلم اور بے انصافی کو بھی خدا کی یہ کائنات کبھی قبول نہیں کرتی۔ آدمی پر وہ وقت آنے والا ہے جب کہ خدائی آپریشن اس کی حقیقت کو کھول دے اور اس کے لیے اپنے جرائم کے اقرار کے سوا کوئی چارہ نہ رہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page