جہنمی قافلے
Urdu book, p. 290
By Maulana Wahiduddin Khan
جہنمی قافلے ”ہر آدمی جنت کی تلاش میں ہے مگر ہر آدمی اپنی جنت کو دوزخ میں تلاش کر رہا ہے“ میری زبان سے بے ساختہ نکلا ”لوگ کانٹوں میں پھول کو ڈھونڈ رہے ہیں، وہ اپنی زندگی کو کھنڈر کر رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ بہت جلد ان کے لیے ایک شان دار محل کھڑا ہونے والا ہے۔“ ہر آدمی اپنی زندگی کو سنوارنے میں لگا ہوا ہے۔ کوئی تجارت اور ملازمت کے میدان میں محنت کر رہا ہے۔ کوئی قیادت کے میدان میں اپنا نام اونچا کرنے کے لیے سرگرم ہے۔ کسی کا دماغ خوبصورت الفاظ کا کارخانہ بنا ہوا ہے تا کہ وہ عوام کی بھیڑ کو زیادہ اپنے گرد جمع کر سکے ۔ ہر آدمی اپنے ذہن میں اپنے مستقبل کا ایک سہانا خواب لیے ہوئے ہے اور ہر آدمی اپنے خواب کو واقعہ بنانے میں رات دن مصروف ہے۔ مگر لوگوں سے قریب ہو کر ان کو دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ اپنے خوابوں کی دنیا کو حاصل کرنے کے لیے لوگوں کے پاس عملِ غیر صالح کے سوا کوئی سرمایہ نہیں۔ آدمی اپنے رشتہ داروں کے حقوق سے بے پروا ہو کر اپنے بچوں کا مستقبل سنوارنا چاہتا ہے۔ وہ اپنے پڑوسیوں کو دکھ پہنچا کر دور کے لوگوں میں خوش نام ہونے کی تدبیریں کر رہا ہے۔ وہ اپنے ذاتی معاملات میں بے انصافی کر کے باہر کی دنیا میں انصاف کا علم بردار بنا ہوا ہے۔ وہ اپنے خلاف ایک لفظ سننے کے لیے تیار نہیں مگر دوسروں کے خلاف سب کچھ کہنے اور کرنے کے لیے وہ اپنے آپ کو خدائی فوجدار سمجھتا ہے۔ خدا نے اپنی دنیا میں انسان کے لیے وہ سب کچھ رکھا ہے جو وہ چاہتا ہے۔ بلکہ اس سے زیادہ بھی۔ مگر خدا کی دنیا میں ہر اچھی چیز کو پانے کا ذریعہ اچھا عمل ہے۔ خدا کا انعام ان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader