Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 291

By Maulana Wahiduddin Khan

لوگوں کو ملتا ہے جو اپنے متعلقین کے حقوق ادا کریں۔ جو اپنے پڑوسیوں کو اپنے شرسے بچائیں۔ جو اپنے اہل معاملہ کے ساتھ انصاف کریں۔ جو خود پسندی کے بجائے خدا پسندی کے اوپر اپنی زندگیوں کو اٹھائیں۔ جو لوگوں سے حق اور عدل کی بنیاد پر معاملہ کریں نہ کہ اکڑا اور خود غرضی کی بنیاد پر۔ جو حق کے آگے جھک جائیں چاہے وہ ان کے خلاف کیوں نہ ہو۔ جو اپنی انا کو خدا کے حوالے کر دیں اور خدا کی دنیا میں بے انا بن کر رہنے پر راضی ہو جائیں۔ لوگ جہنمی انگاروں میں کودتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ وہ خوبصورت پھولوں سے کھیل رہے ہیں۔ وہ دوزخ کے راستوں میں دوڑ رہے ہیں اور خوش ہیں کہ بہت جلد وہ جنت کے باغوں میں پہنچنے والے ہیں۔ آہ وہ قافلہ جس کے پاس جھوٹی خوش فہمی کے سوا اور کوئی سرمایہ نہیں۔ آہ وہ لوگ جو خدا کی دنیا میں اپنے لیے ایک ایسی دنیا بنانا چاہتے ہیں جس کی خدا نے اجازت نہیں دی۔ دوسرے درجہ پر آئن سرویچ تور جنیف (1883-1818) روس کا مشہور ناول نگار ہے۔ اس کے ایک دوست نے ایک بار اس کو لکھا: ”میرے نزدیک اپنے آپ کو ہمیشہ دوم درجہ میں رکھنے پر رضا مند کر لینے ہی میں زندگی کی ساری اہمیت پوشیدہ ہے “ یہ بات صد فی صد درست ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام اجتماعی اور قومی برائیاں اسی لیے پیدا ہوتی ہیں کہ لوگ اپنے آپ کو دوسرے کے مقابلہ میں دوم درجہ پر رکھنے کے لیے راضی نہیں ہوتے۔ ہر ایک اپنے آپ کو اول درجہ پر دیکھنا چاہتا ہے۔ اور جہاں ہر شخص اور ہر قوم اپنے کو اول درجہ پر رکھنا چاہے وہاں لازماً یہی ہوگا کہ باہمی ٹکراؤ ہو، اور کوئی دوسرے کا خیر خواہ نہ رہے۔ انسانیت کے اکثر فلسفے اسی بنیادی فکر کے گرد گھومتے ہیں۔ سماجی مفکرین کی کوششوں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page