دوسرے درجہ پر
Urdu book, p. 292
By Maulana Wahiduddin Khan
کا خلاصہ یہ ہے کہ آدمی کے سامنے کچھ ایسے اعلیٰ معیار رکھ دئے جائیں جن کو آدمی ہر حال میں اپنے سے بالا تر سمجھے ، وہ اپنی ذات کو مرکز بنانے کے بجائے ان معیاری قدروں کو اپنے فکر و توجہ کا مرکز بنا لے۔ مگر عملاً کوئی فلسفی اس میں کامیاب نہ ہوسکا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جس چیز کو بھی انھوں نے اس حیثیت سے دریافت کیا کہ وہ انسان کی تو جہات کا مرکز اول بنے (مثلاً امن ، محبت ، خیر خواہی ) وہ خود انسان کی اپنی تخلیق تھی۔ انسانی ذہن کے باہر ان کا کوئی ذاتی وجود نہ تھا۔ پھر اپنے تخلیق کیے ہوئے معبود کے بارے میں کوئی شخص سنجیدہ ہوتا تو کیوں ہوتا۔ اس مسئلہ کا واحد حل خدا کا عقیدہ ہے۔ خدا ایک حقیقی وجود ہے۔ وہ ہمارا خالق اور مالک ہے۔ وہ آج بھی ایک زندہ ہستی کی حیثیت سے سارے عالم کو اپنے قبضہ میں لیے ہوئے ہے۔ تمام چیزیں مکمل طور پر اس کی محتاج ہیں، وہ کسی کا محتاج نہیں۔ ایسے خدا کو ماننے کا مطلب ہی یہ ہے کہ اس کائنات میں آدمی اپنے آپ کو ”دوسرے درجہ“ پر رکھ رہا ہے۔ وہ خدا کو ہر اعتبار سے اول حیثیت دے کر خود ہر اعتبار سے دوسری حیثیت پر راضی ہو گیا ہے۔ جس آدمی کے اندر یہ خیال پوری طرح بیٹھ جائے ، جو اپنے سارے دل و دماغ کے ساتھ خدا کے مقابلہ میں اپنے کو دوسرے درجے کی حیثیت دینے پر راضی ہو جائے ۔ وہ عین وہی انسان بن جاتا ہے جس کو تمام دنیا کے مفکرین تلاش کر رہے ہیں مگر وہ اس کو کہیں نہیں پاتے۔ انسان کی نفسیات ایک بسیط شے ہے۔ نفسیات میں تقسیم ممکن نہیں۔ اگر کسی کی نفسیات حقیقی معنوں میں یہ بن جائے کہ اس کائنات میں وہ خدا کے مقابلہ میں ”دوسرے درجہ“ پر ہے تو انسانوں کے مقابلہ میں بھی اس کے اندر یہی مزاج بنے گا۔ اس حقیقت واقعہ کا اعتراف کہ اس کائنات میں وہ دوسرے درجہ کی حیثیت رکھتا ہے ، اس سے ”اول درجہ“ والا بننے کا احساس چھین لے گا۔ اس کی انانیت بے نفسی میں تبدیل ہو جائے گی ۔ اس کی سرکشی تواضع

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader