Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 293

By Maulana Wahiduddin Khan

کی صورت اختیار کرلے گی۔ اس کی ڈھٹائی اعتراف کے روپ میں ڈھل جائے گی۔ اور یہی وہ اوصاف ہیں جو بہتر سماج بناتے ہیں۔ جہاں لوگوں کے اندر یہ مزاج آجائے وہاں نہ انفرادی جھگڑوں کا کوئی وجود ہوگا اور نہ قومی جھگڑوں کا۔ دو قسم کی غذائیں قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس لیے آیا ہے کہ وہ پاک چیزوں کو جائز بتائے اور گندی چیزوں کو حرام قرار دے: وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبَاتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَبَائِثَ (7:157) گویا ایمان سے آدمی کے اندر ایسی روح پیدا ہوتی ہے جو خبیث چیزوں کو قبول نہ کرے، وہ صرف طیب چیزوں کو اپنی غذا بنائے۔ اس کے برعکس، غیر مومن وہ ہے جو خبیث چیزوں پر جی رہا ہو اور طیب چیزیں اس کی روح کی غذا نہ بنتی ہوں۔ جانوروں میں دو قسم کے جانور ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو مردار اور غلیظ چیزیں تلاش کرکے کھاتے ہیں۔ دوسرے وہ جو ستھری غذاؤں سے اپنی خوراک حاصل کرتے ہیں۔ اسی طرح انسانوں کی بھی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ جو خبیث جذبات پر جیتے ہیں۔ دوسرے وہ جو طیب جذبات پر پرورش پاتے ہیں۔ ایک انسان وہ ہے جو نفرت اور عداوت میں جی رہا ہے۔ جو ذاتی نمائش اور شخصی مصالح کی ہواؤں میں سانس لیتا ہے۔ جس کی روح کو اس سے غذا ملتی ہے کہ وہ حق کا اعتراف نہ کرے۔ جس کے قلب و دماغ کو انانیت، خود پرستی ، اظہار برتری سے خوراک ملتی ہے۔ وہ کسی کو تکلیف پہنچا کر خوش ہوتا ہے۔ کسی کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر اس پر وار کرتا ہے اور پھر کامیابی کے قہقہے لگاتا ہے۔ ایسے لوگ خدا کی دنیا میں طیب خوراک کو چھوڑ کر خبیث خوراک پر جی رہے ہیں۔ دوسرا انسان وہ ہے جو قلبِ سلیم کے ساتھ جی رہا ہے۔ اس کی روح دوسروں کی کامیابی سے خوش ہوتی ہے۔ وہ دوسرے پر قابو یافتہ ہو کر بھی اس کو چھوڑ دینے میں راحت محسوس کرتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page