اللہ اکبر
Urdu book, p. 294
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے۔ اس کا دل دوسروں کے لیے خیر خواہی اور محبت کے جذبات سے بھرا ہوتا ہے۔ اس کی ہستی کو عجز اور تواضع میں لذت ملتی ہے۔ وہ خدا اور آخرت کی فضا میں سانس لیتا ہے۔ اختلاف کے وقت اپنے کو جھکا لینے میں اس کو سکون ملتا ہے۔ جب کوئی اس پر تنقید کرتا ہے تو تنقید کو قبول کر لینے میں اس کا دل ٹھہراؤ پاتا ہے۔ کسی کا حق اس کے ذمہ ہو تو جب تک وہ اس کا حق ادا نہ کرلے تو اس کو راتوں کو نیند نہیں آتی۔ ایسے لوگ خدا کی دنیا سے اس کی طیب خوراک لے رہے ہیں اور اس کی خبیث خوراک سے اپنے کو بچائے ہوئے ہیں۔ دنیا میں ایسا ہوتا ہے کہ ہر شخص کی زندگی میں بار بار غیر معمولی حالات آتے ہیں، کبھی کسی سے معاملہ پڑنے کی صورت میں ، کبھی کسی سے شکایت پیدا ہو جانے کی صورت میں۔ یہ غیر معمولی مواقع وہ غیر معمولی لمحات ہیں جب کہ خدا دونوں قسم کی روحوں کو چھانٹتا ہے تا کہ ایک کے لیے جنت کا اور دوسرے کے لیے جہنم کا فیصلہ کرے۔ جنت پاک روحوں کی آبادی ہے جہاں وہ لوگ بسائے جائیں گے جنھوں نے دنیا کی جانچ میں تواضع اور انصاف کا ثبوت دیا اور جہنم ناپاک روحوں کا جیل خانہ ہے جہاں وہ لوگ داخل کیے جائیں گے جو معاملہ کے وقت بے انصاف ہو گئے اور خدا کے دئے ہوئے وسائل کو اس لیے خرچ کیا تا کہ اس کے ذریعہ سے اپنی متکبرانہ نفسیات کی تسکین حاصل کریں۔ جنتی اخلاقیات کے لوگ جنت میں ہوں گے اور جہنمی اخلاقیات کے لوگ جہنم میں۔ خدا کی قدرت ابوالعلاء المعری کا ایک شعر ہے: تَبَارَكَتْ أُمُّوْاهُ الْبِلَادِ بِأُسْرِهَا عِذَابٌ وَخُصَّتْ بِالْمُلُوحَةِ زَمْزَمُ "خدایا تیری برکت، دنیا کی تمام نہریں میٹھا پانی لے کر بہہ رہی ہیں اور زمزم ہی کو خاص طور پر کھاری بنا دیا گیا"۔ (الدر الفرید و بیت القصید: 6303)۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader