Urdu book · اللہ اکبر

خدا کی قدرت

Urdu book, p. 295

By Maulana Wahiduddin Khan

تمثیل کے انداز میں گہری حقیقت کا اظہار ہے۔ دنیا کو اس کے بنانے والے نے اس طرح بنایا ہے کہ یہاں تمام سطحی چیزیں مزہ دار ہیں اور تمام گہری چیزیں بے مزہ ہیں۔ اگر آپ کو اعلیٰ ظرفی کا ثبوت دینا ہو تو آپ کو غصہ اور نفرت کا کڑوا گھونٹ پینا پڑے گا جب کہ تنگ ظرفی کے لیے اس کے سوا کسی چیز کی ضرورت نہیں کہ آدمی کے اندر جو تلخی یا کڑواہٹ پیدا ہو وہ اس کو دوسرے کے اوپر انڈیل دے۔ اگر آپ کو کوئی حقیقی کام کرنا ہو تو آپ کو با اصول آدمی بننے کی سختی برداشت کرنی ہوگی، جب کہ بے مقصد انسان بن کر جینے کے لیے صرف اتنی بات کافی ہے کہ جہاں جیسا موقع ہو وہاں اسی روش کا مظاہرہ کر دیا جائے ۔ اگر آپ کو کسی اعلی مقصد کے لیے جینا ہے تو پوری زندگی پر طرح طرح کی روک لگانی پڑے گی، جب کہ بے مقصد زندگی گزارنے کے لیے صرف یہ کرنا ہوتا ہے کہ اپنے آپ کو بے لگام چھوڑ دیا جائے۔ آزادی کے بعد ہندوستان کی جو پہلی منتخب پارلیمنٹ بنی اس کے ممبر پروفیسر ہیریندر ناتھ مکھر جی (2004-1907) تھے۔ پارلیمنٹ کے ایک اجلاس میں شرکت کے بعد جب وہ دہلی سے کلکتہ کے لیے روانہ ہوئے توان پر ایک عجیب کیفیت گزری۔ تیز رفتار ٹرین کی فرسٹ کلاس بوگی ان کو لیے ہوئے دہلی کے جنوبی علاقہ سے گزر رہی تھی ۔ انھوں نے دیکھا کہ ریلوے لائن کے کنارے جھگی جھونپڑیوں اور گندے محلّوں کا سلسلہ ہے جو دور تک چلا گیا ہے۔ ان کو یہ سوچ کر سخت صدمہ ہوا کہ آزادی کے انقلاب نے چند خوش قسمت لوگوں کو تو بہت کچھ دیا ہے مگر کروڑوں عوام کے لیے اس انقلاب کے پاس کوئی چیز نہیں ہے۔ کلکتہ پہنچ کر انھوں نے سابق وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو کو ایک خط لکھا جس میں اپنے مذکورہ تاثر کا ذکر کرتے ہوئے یہ درج تھا کہ جب میں دہلی کی ان غریب بستیوں سے گزرا تو میرے دل میں یہ خیال آیا کہ یہ لوگ اگر مجھ سے پوچھیں کہ تمہاری آزادی سے ہم کو کیا ملا تو میرے پاس اس کا کیا جواب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page