Urdu book · اللہ اکبر

فطرت کی تصدیق

Urdu book, p. 29

By Maulana Wahiduddin Khan

میں آ جاتی ہے۔ ایک بیج کو مٹی میں ملا دیا جاتا ہے تو اس سے لکڑی اور پتی اور پھول اور پھل کا ایک مجموعہ نکل کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ وغیرہ، وغیرہ۔ اس قسم کے بے شمار کرشمے کائنات میں ہر لمحہ ظاہر ہو رہے ہیں۔ انسان ان کو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ نہ خود ان چیزوں میں اپنے آپ کو ظہور میں لانے کی طاقت ہے اور نہ انسان اس پر قادر ہے کہ وہ بطور خود کسی واقعہ کو پیدا کر سکے۔ ’پھر یہ سب کیسے ہو رہا ہے‘ اس سوال کے جواب میں وہ کہہ دیتا ہے کہ یہ سب خدا کا انش ہے۔ یہ خود خدا ہے جو ان گنت صورتوں میں اپنے آپ کو ظاہر کر رہا ہے۔ قرآن اس قسم کے جواب کو گمراہی قرار دیتا ہے۔ قرآن کے نزدیک یہ چیزیں خدا کا انش نہیں بلکہ خدا کا حکم ہیں۔ خدا نے اپنی قدرت سے ان کو پیدا کیا ہے ۔ نہ کہ خود خدا ان کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ ”ستارے“ قدیم زمانہ سے شعراء کے حسین تخیلات کا مرکز رہے ہیں۔ ”چاند“ کو انسان دیوتا کے روپ میں دیکھتا رہا ہے۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ستارے ہیبت ناک آگ کے شعلے ہیں اور چاند اور دوسرے سیارے محض خشک چٹانیں جن پر پانی کا ایک قطرہ یا درخت کا ایک پتہ بھی نہیں۔ کائنات انتہائی وسیع ہونے کے باوجود انسان جیسی مخلوق کے لیے انتہائی طور پر غیر موافق ہے۔ ساری معلوم کائنات میں صرف زمین ہی ایک ایسا کرہ ہے جہاں انسان زندہ رہتا ہے اور تمدن کی تعمیر کرتا ہے۔ بے حد و وسیع کائنات میں زمین کا استثناء واضح طور پر ایک ذی شعور ہستی کے وجود کا ثبوت ہے جس نے بالا راوہ زمین پر استثنائی حالات پیدا کیے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page