خدا کی نشانیاں
Urdu book, p. 30
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا کی نشانیاں ستمبر 1984ء کی سات تاریخ تھی۔ میں افریقہ کے ایک پہاڑی علاقہ میں درخت کے سامنے کھڑا تھا۔ یہ درخت میرے لیے نیا تھا۔ اس سے پہلے میں نے اس قسم کا درخت نہیں دیکھا تھا۔ درخت اپنے پورے وجود کے ساتھ خدا کی نشانی معلوم ہو رہا تھا۔ اس کی ہر چیز میری نظر میں عجیب تھی، اس کا نازک پھول، اس کا تراشا ہوا پھل، ریاضیاتی کاریگری کے ساتھ بنی ہوئی اس کی پتیاں تمام چیزیں پکار رہی تھیں کہ وہ اپنے آپ نہیں اگ آئی ہیں بلکہ کسی بنانے والے نے ان کو بنایا ہے۔ اس دنیا کا ہر درخت خدا کی صنعت گری کا نمونہ ہے۔ مگر مذکورہ درخت پہلی بار میرے سامنے آیا اس لیے وہ خصوصی طور پر میرے لیے اثر انگیز ثابت ہوا۔ افریقہ کے اس عجیب اور حسین درخت کو دیکھ کر بے ساختہ میری زبان سے نکلا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خدا نے اس دنیا میں جو چیزیں بنائیں ان میں سے ہر چیز پر اس نے یہ لکھ دیا— خدا کا بنایا ہوا: Made by God خدا نے چیزوں پر یہ لکھا اور اس کے بعد اپنے آپ کو لوگوں کی نظروں سے چھپا لیا۔ تا کہ لوگ مخلوق کو دیکھ کر خالق کو پہچانیں، تاکہ غیب کے با وجود اس دنیا میں خدا کی موجودگی کو پالیں۔ ایک شخص جو مشینوں کا ماہر ہو وہ ایک مشین کو دیکھ کر کہہ دیتا ہے کہ یہ مشین روس کی بنی ہوئی ہے یا امریکا کی، برطانیہ کی بنی ہوئی ہے یا جاپان کی۔ یہی کائنات کی تمام چیزوں کا حال ہے۔ ہم ایک ایسی دنیا میں ہیں جہاں بے شمار قدرتی مشینیں موجود ہیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader