Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 300

By Maulana Wahiduddin Khan

اس اعتبار سے دیکھیے تو موجودہ زمین پر ہمارا ہر لمحہ گویا آخری لمحہ ہے۔ اگر ہم اپنی صبح میں ہیں تو اندیشہ ہے کہ ہم شام نہ کر سکیں۔ اگر ہم اپنی شام میں ہیں تو اندیشہ ہے کہ ہمیں دوبارہ صبح دیکھنے کو نہ ملے موجودہ دنیا میں ہمارا ہر لمحہ آخری لمحہ ہے۔ ہر وقت یہ امکان ہے کہ انسانیت اپنی مہلت عمر پوری کر چکی ہو۔ انسان اپنے ”24 ویں گھنٹے“ کو ختم کر کے 25 ویں فیصلے کن گھنٹے میں داخل ہو جائے ۔ لوگ نیوکلیئر جنگ کے خطرہ سے ڈر رہے ہیں۔ حالاں کہ انہیں خدا کی طرف سے قیامت کا صور پھونکا جانے سے ڈرنا چاہیے۔ کیوں کہ نیوکلیئر جنگ کا ہونا یقینی نہیں۔ مگر قیامت کا آنا یقینی بھی ہے اور اس کا انجام ابدی بھی۔ آخری منزل ماؤنٹ ایورسٹ (Mount Everest) دنیا کی سب سے اونچی چوٹی ہے۔ ہمالیہ کی یہ مشہور چوٹی سطح سمندر سے 29028 فٹ (8848 میٹر) بلند ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پہلا قابل ذکر شخص جس نے اس بلند چوٹی پر اپنا قدم رکھنے کی سنجیدہ کوشش کی وہ ایک انگریز موریس ولسن (1898-1934) تھا۔ اس نے 1934 میں اس کے اوپر چڑھائی کی۔ مگر جس چیز کو اس نے اپنی زندگی کا کلائیمکس سمجھا تھا وہ اس کے لیے اینٹی کلائیمکس (Anti-climax) بن گیا۔ موریس ولسن پہلی جنگ عظیم میں ایک سپاہی تھا۔ اس کو دنیا کی ” آخری بلندی“ پر پہنچنے کا اتنا زیادہ شوق تھا کہ اس نے اپنے خاندان کی کامیاب تجارت کو اس کے اوپر قربان کر دیا۔ اس نے اپنا تمام سرمایہ خرچ کر کے ذاتی طور پر ایک سیکنڈ ہینڈ ہوائی جہاز خریدا۔ وہ انگلستان سے ہندوستان تک چھ ہزار میل کا سفر طے کر کے پورنیہ میں اترا۔ اس کو اپنا ہوائی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page