آخری منزل
Urdu book, p. 301
By Maulana Wahiduddin Khan
جہاز آگے لے جانے کی اجازت نہیں ملی۔ چنانچہ اس نے اپنا جہاز فروخت کر دیا۔ اس کے بعد اس نے دار جیلنگ اور تبت کے راستے سے ایورسٹ کی طرف سفر شروع کر دیا۔ آخر میں اس کے پاس ایک چھوٹا خیمہ، کچھ چاول، ایک خود کار کیمرہ اور چند دوسری چیزیں باقی رہ گئیں۔ تاہم وہ اوپر چڑھتا رہا۔ وہ کامیابی کے ساتھ 19500 فٹ کی بلندی تک چڑھ گیا۔ 21 اپریل 1934 کو اس کی 36 ویں برتھ ڈے تھی۔ اس کا منصوبہ تھا کہ وہ اپنی زندگی کے اس تاریخی دن کوایورسٹ کی چوٹی پر کھڑا ہو۔ اس نے اپنی ڈائری میں چند دن پہلے یہ الفاظ لکھے: Only 1300 feet more go. I have the distinct feeling that I'll reach the summit on April 21 صرف تیرہ ہزار فٹ جانا اور باقی ہے۔ مجھے یہ واضح احساس ہو رہا ہے کہ میں 21 اپریل (1934) کو چوٹی پر پہنچ جاؤں گا۔ ان پر فخر سطروں کو لکھنے کے بعد ہمالیہ کا سخت طوفان اور موسم کی شدت اس کی راہ میں رکاوٹ بن گئے۔ وہ مجبور ہو گیا کہ پیچھے لوٹے ۔ چنانچہ وہ اتر کر اپنے نچلے ٹھکانہ پر آ گیا۔ مگر اس کے بعد اس کو دوبارہ اوپر چڑھنا نصیب نہ ہوا۔ اس کے بعد اس کے ساتھ کیا پیش آیا۔ اس کا حال کسی کو معلوم نہیں۔ ایک سال بعد تن زنگ نار گے (1986-1914) اوپر چڑھ رہا تھا کہ اس کو ایک مقام پر موریس ولسن کی لاش ملی اور اسی کے ساتھ اس کی ڈائری بھی۔ جس کا آخری اندراج وہ جملہ تھاجس کو ہم نے اوپر نقل کیا ہے۔ موریس ولسن ہمالیہ کی بلند ترین چوٹی پر خود کار کیمرہ کے ذریعہ اپنی تصویر کھینچنا چاہتا تھا۔ اس کو امید تھی کہ کیمرہ کی آنکھ اس کو فتح کی چوٹی پر دیکھے گی۔ جب یہ تاریخ آئی تو وہاں نہ کوئی ولسن تھا جو اپنی فتح و کامیابی کو دیکھ کر خوش ہو، اور نہ کوئی کیمرہ تھا جو اس کی فتح و کامیابی کے واقعہ کوریکارڈ کرے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader