Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 302

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ کہانی بدلی ہوئی صورت میں ہر آدمی کی کہانی ہے۔ ہر آدمی یہ سمجھتا ہے وہ کامیابی کی چوٹی پر پہنچنے کی طرف آگے بڑھ رہا ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہاں ہر آدمی صرف ایک ایسی منزل کی جانب چلا جا رہا ہے جہاں موت کے سوا کوی دوسری چیز نہیں جو اس کا استقبال کرنے کے لیے موجود ہو۔ موجودہ دنیا میں کچھ لوگ وہ ہیں جو دنیوی کامیابیوں کی صرف تمنا کرتے رہتے ہیں۔ اور بالآخر اس طرح مرجاتے ہیں کہ انھوں نے اپنی خوابوں کی دنیا کی طرف سفر بھی شروع نہیں کیا تھا۔ دوسرے لوگ وہ ہیں جو اپنی زندگی میں، کم یا زیادہ ، ان خواہشوں کو پالیتے ہیں۔ مگر پانے والے بھی ان چیزوں سے اتنا ہی دور رہتے ہیں جتنا کہ نہ پانے والے۔ کیونکہ ان کو پا لینے کے بعد آدمی پر کھلتا ہے کہ اس کو وہ طاقت اور موقع حاصل نہیں جو ان چیزوں سے لطف اندوز ہونے کے لیے ضروری ہیں۔ اس دنیا میں پانے والا بھی اتنا ہی محروم ہے جتنا نہ پانے والا۔ مگر بہت کم لوگ ہیں جو اس حقیقت کو جانتے ہوں۔ انسان کتنا زیادہ محروم ہے۔ مگر وہ اپنے آپ کو کتنا زیادہ پانے والا سمجھتا ہے۔ زندگی کس قدر غیر یقینی ہے مگر آدمی اس کو کس قدر یقینی سمجھ لیتا ہے۔ آدمی صرف نامعلوم کل کے راستہ پر جا رہا ہے مگر وہ گمان کر لیتا ہے کہ وہ معلوم آج میں اپنی کامیاب دنیا تعمیر کر رہا ہے۔ کتنے بے خبر ہیں وہ لوگ جو اپنے کو جاننے والا سمجھتے ہیں۔ کیسے ناکام ہیں وہ لوگ جن کا نام کامیاب انسانوں کی فہرست میں سب سے آگے لکھا ہوا ہے۔ موت کے دوسری طرف سکندر اعظم نے بڑی بڑی فتوحات کیں۔ مگر جب آخر وقت آیا تو اس نے کہا: ”میں دنیا کو فتح کرنا چاہتا تھا۔ مگر موت نے مجھ کو فتح کر لیا۔ افسوس کہ مجھ کو زندگی کا وہ سکون بھی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page