موت کے دوسری طرف
Urdu book, p. 303
By Maulana Wahiduddin Khan
حاصل نہ ہو سکا جو ایک معمولی آدمی کو حاصل ہوتا ہے“۔ نپولین بونا پارٹ (1821-1769) کے آخری احساسات یہ تھے : ”مایوسی میرے نزدیک جرم تھی مگر آج مجھ سے زیادہ مایوس انسان دنیا میں کوئی نہیں۔ میں دو چیزوں کا بھوکا تھا۔ ایک حکومت، دوسری محبت۔ حکومت مجھے ملی مگر وہ میرا ساتھ نہ دے سکی۔ محبت کو میں نے بہت تلاش کیا مگر میں نے اسے کبھی نہیں پایا۔ انسان کی زندگی اگر یہی ہے جو مجھ کو ملی تو یقیناً انسانی زندگی ایک بے معنی چیز ہے۔ کیونکہ کہ اس کا انجام مایوسی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں“۔ ہارون الرشید ایک بہت بڑی سلطنت کا حکمران تھا۔ مگر آخر عمر میں اس نے کہا : ”میں نے ساری عمر غم غلط کرنے کی کوشش کی، پھر بھی میں غم غلط نہ کر سکا۔ میں نے بے حد غم اور فکر کی زندگی گزاری ہے۔ زندگی کا کوئی دن ایسا نہیں جو میں نے بے فکری کے ساتھ گزارا ہو۔ اب میں موت کے کنارے ہوں۔ جلد ہی قبر میرے جسم کو نگل لے گی۔“ یہی ہر انسان کا آخری انجام ہے۔ مگر ہر انسان اپنے انجام سے غافل رہتا ہے۔ خلیفہ منصور عباسی کی موت کا وقت آیا تو اس نے کہا: اگر میں کچھ دن اور زندہ رہتا تو اس حکومت کو آگ لگا دیتا جس نے مجھے بار بار سچائی سے ہٹا دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک نیکی اس ساری حکومت سے بہتر ہے۔ مگر یہ بات مجھ کو اس وقت معلوم ہوئی جب موت نے مجھے اپنے چنگل میں لے لیا۔ دنیا کے اکثر کامیاب ترین انسانوں نے اس احساس کے ساتھ جان دی ہے کہ وہ دنیا کے ناکام ترین انسان تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ موت کے قریب پہنچ کر آدمی پر جو کچھ گزرتا ہے اگر وہی اس پر موت سے پہلے گزر جائے تو اس کی زندگی بالکل بدل جائے۔ ہر آدمی جب موت کے کنارے کھڑا ہوتا ہے تو اس کو وہ تمام رونقیں راکھ کے ڈھیر سے بھی زیادہ بے حقیقت معلوم ہوتی ہیں جن میں وہ اس قدر گم تھا کہ کسی اور چیز کے بارے میں سوچنے کی اسے فرصت ہی نہ ملی۔ اس کے پیچھے ایک ایسی دنیا ہوتی ہے جس کو وہ کھو چکا اور آگے ایک ایسی دنیا ہوتی ہے جس کے لیے اس نے کچھ نہیں کیا۔ موت جب سر پر آجائے اس وقت موت کو یاد کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ موت کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader