اللہ اکبر
Urdu book, p. 304
By Maulana Wahiduddin Khan
یاد کرنے کا وقت اس سے پہلے ہے۔ جب آدمی اس قابل ہوتا ہے کہ وہ دوسروں پر ظلم کرے اور اپنی ظالمانہ کارروائیوں کو عین انصاف کہے اس وقت وہ کچھ سوچنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ اس وقت وہ اپنی انا کی تسکین کے لیے وہ سب کچھ کر ڈالتا ہے جو اس کو نہیں کرنا چاہیے۔ مگر جب اس کی طاقت ختم ہو جاتی ہے، جب اس کے الفاظ جواب دینے لگتے ہیں، جب اس کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ موت کے بے رحم فرشتہ کے قبضہ میں ہے اس وقت اس کو اپنی غلطیاں یاد آتی ہیں۔ حالاں کہ یاد آنے کا وقت وہ تھا جب کہ وہ غلطیاں کر رہا تھا۔ اور کسی نصیحت کی پروا کرنے کے لیے تیار نہ تھا۔ آخرت تک جانا ہے مولانا اشرف علی تھانوی ایک بار ٹرین سے سفر کر رہے تھے۔ ان کو اعظم گڑھ جانا تھا۔ ایک ریلوے گارڈ جوان کا معتقد تھا اسٹیشن پر ان سے ملنے کے لیے آیا۔ اتنے میں ایک دیہاتی آدمی بھی آگیا۔ اس نے گنّے کا ایک گٹھا تحفہ کے طور پر مولانا کو پیش کیا۔ مولانا نے قبول کر لیا اور اپنے ساتھی سے کہا کہ ان گنوں کا وزن کرا کے ان کو بک کر والو۔ گارڈ نے کہا: بک کروانے کی کیا ضرورت ہے۔ اس ٹرین سے جو گارڈ جا رہا ہے میں اس سے کہہ دیتا ہوں۔ وہ خیال رکھے گا۔ مولانا نے کہا کہ تمہارا گارڈ تو اسی ٹرین تک ساتھ رہے گا اور مجھے آگے جانا ہے۔ گارڈ نے سمجھا کہ مولانا کو آگے کسی اسٹیشن پر یہ ٹرین بدل کر دوسری ٹرین پکڑنا ہے۔ اس نے کہا: کوئی ہرج نہیں۔ میں گارڈ کو بتا دیتا ہوں وہ آگے والے گارڈ سے بھی کہہ دے گا اور آپ کو کوئی زحمت نہ ہوگی۔ مولانا نے کہا: مجھے اس سے بھی آگے جانا ہے۔ گارڈ نے حیرت سے پوچھا آخر آپ کہاں تک جائیں گے۔ ابھی تو آپ نے کہا کہ آپ اعظم گڑھ جا رہے ہیں۔ مولانا نے کسی قدر خاموشی کے بعد کہا: مجھے آخرت تک جانا ہے، وہاں تک کون سا گارڈ میرے ساتھ جائے گا۔‘‘

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader