Urdu book · اللہ اکبر

اللہ اکبر

Urdu book, p. 305

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ معاملہ محض ریل کے سفر کا نہیں بلکہ تمام معاملات کا ہے۔ آدمی کا ہر معاملہ آخرت کا معاملہ ہے۔ دنیا میں کوئی ”گارڈ“ وقتی طور پر آپ کا ساتھ دے سکتا ہے۔ مگر آخرت کی منزل پر پہنچ کر کوئی گارڈ ساتھ دینے والا نہیں۔ جس کا ذہن یہ ہو کہ مجھے آخرت تک جانا ہے وہ ہر اس چیز کو بے قیمت سمجھے گا جو آخرت میں بے قیمت ہو جانے والی ہو، خواہ آج وہ کتنی ہی قیمتی نظر آئے۔ اسی طرح وہ ہر اس چیز کو وزن دینے پر مجبور ہوتا ہے جو آخرت میں باوزن ثابت ہونے والی ہو، خواہ آج کی دنیا میں بظاہر وہ کتنی ہی بے وزن دکھائی دے۔ آدمی حق کا انکار کرنے کے لیے آج خوبصورت الفاظ پالیتا ہے۔ مگر آخرت میں اس کو معلوم ہوگا کہ وہ اس کا ساتھ چھوڑ کر پیچھے رہ گئے ۔ آدمی طاقت کے بل پر بے انصافی کرتا ہے اور خوش ہوتا ہے کہ مظلوم اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔ مگر آخرت میں وہ دیکھے گا کہ اس کی طاقت پیچھے کی دنیا میں رہ گئی ہے، آخرت میں وہ اس کا ساتھ دینے کے لیے موجود نہیں ہے۔ آدمی کے سازوسامان اس کو دھوکہ دیتے ہیں اور وہ اپنے گھمنڈ کا مینار کھڑا کرتا ہے۔ مگر آخرت میں وہ پائے گا کہ اس کے وہ سازوسامان اس سے بہت دور ہو چکے ہیں جن کے اوپر وہ گھمنڈ کیا کرتا تھا۔ مومن اور غیر مومن کا فرق ایک لفظ میں یہ ہے کہ غیر مومن یہ سمجھ کر زندگی گزارتا ہے کہ اس کو اسی دنیا میں رہنا ہے۔ اور مومن اس نفسیات کے ساتھ جیتا ہے کہ اس کو آخرت تک جانا ہے۔ نفسیات کا یہ فرق دونوں کی زندگیوں میں اتنا زیادہ عملی فرق پیدا کر دیتا ہے کہ ایک جہنم کا مستحق ہو جاتا ہے اور دوسرا جنت کا۔ موت کی طرف آج وہ بے وقت مجھ سے ملنے آگیا تھا اور بہت کم میرے پاس ٹھہرا۔ خلافِ معمول اس نے چائے بھی قبول نہیں کی۔ ”مجھے بہت جلد گھر پہنچنا ہے۔ وہاں میری بیوی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page