موت کی طرف
Urdu book, p. 306
By Maulana Wahiduddin Khan
میرا انتظار کر رہی ہوگی۔“ اس نے کہا اور اپنا اسکوٹر اسٹارٹ کر کے تیزی سے روانہ ہو گیا۔ اس کی واپسی کو بمشکل آدھ گھنٹہ ہوا تھا کہ ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ اس کی بیوی گھبرائی ہوئی آواز میں بول رہی تھی ”آپ کے دوست کا….“ اس نے کہا۔ بظاہر اس کا جملہ ادھورا تھا۔ مگر اس کے رونے کی آواز نے اس کو پورا کر دیا۔ میں ٹیلی فون بند کر کے فوراً اس کے گھر کی طرف بھاگا۔ معلوم ہوا کہ اس کا انتقال ہو چکا ہے۔ مجھ سے رخصت ہو کر وہ اپنے گھر پہنچا۔ ابھی سیڑھیوں ہی پر تھا کہ لڑھک کر گر پڑا۔ لوگ اٹھا کر اندر لے گئے۔ فوراً ڈاکٹر بلایا گیا مگر ڈاکٹر نے آکر صرف یہ خبر دی کہ وہ اس دنیا سے جا چکا ہے۔ اسکوٹر پر سوار ہو کر وہ میرے یہاں سے روانہ ہوا تو بظاہر وہ اپنے گھر جا رہا تھا۔ مگر حقیقتاً وہ موت کی طرف جا رہا تھا۔ یہ کوئی اتفاقی واقعہ نہیں۔ اس طرح کے واقعات ہر روز اور ہر جگہ پیش آرہے ہیں۔ 26 مئی 1979 کو امریکا کا ایک بڑا جیٹ جہاز جس میں 271 مسافر سوار تھے، اوہرے (O'Hare) ہوائی اڈے سے اڑا۔ تھوڑی ہی دیر بعد وہ زمین پر گر گیا۔ جہاز سمیت سارے مسافر جل کر راکھ ہو گئے۔ یہ معاملہ چند انسانوں کا نہیں بلکہ یہی معاملہ تمام انسانوں کا ہے۔ سارے انسان جو زمین پر چلتے اور دوڑتے ہوئے نظر آتے ہیں وہ سب موت کی منزل کی طرف جا رہے ہیں۔ ہر آدمی سب سے زیادہ جس چیز کے قریب ہے وہ موت ہے۔ ہر آدمی موت کے کنارے کھڑا ہوا ہے۔ ہر آدمی ہر آن اس خطرہ میں مبتلا ہے کہ اس کا آخری وقت آ جائے اور وہ اچانک اس دنیا سے اٹھا کر اگلی دنیا میں پہنچا دیا جائے، جہاں سے کسی کو واپس نہیں آنا ہے۔ جہاں آدمی کے لیے یا تو جنت ہے یا جہنم۔ ایک اندھا آدمی چلتے چلتے کنویں کے کنارے پہنچ جائے تو ہر آدمی جانتا ہے کہ اس وقت سب سے بڑا کام یہ ہے کہ اس کو کنویں کے خطرہ سے آگاہ کیا جائے۔ حتیٰ کہ ایسے نازک موقع پر آدمی قبلہ وکعبہ کی زبان اور نحو و صرف کے قواعد تک بھول جاتا ہے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader